تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 198 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 198

ریخ احمدیت۔جلد ۲ 190 تعریف نبوت میں تبدیلی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہیں اس لئے میں اللہ تعالی کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں کیوں کہ یہ رسول الله الله کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت اور خود اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں۔اس وقت جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا کہ اس تقریب پر چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہو لکھ دوں۔میں (جیسا کہ ابھی کہا ہے ) اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کردوں۔پس یہ میری نیت اور غرض تھی۔چنانچہ میں نے اس کو شروع کیا۔اور جب یہ مصرعہ لکھا۔ہر ایک نیکی کی جڑھ تو و سرا مصرعہ الہام ہوا اگر یہ بڑھ رہی سب کچھ رہا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی بھی میرے اس فعل سے راضی ہے۔" برطانوی سیاح مسٹرڈ کسن کی قادیان میں آمد صبح کی سیر حضرت اقدس مسیح موعود کا دستور مبارک تھا کہ اپنے خدام کے ساتھ صبح سیر کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔دربار شام میں تو حضور اقدس شام کو مسجد مبارک میں رونق افروز ہو کر اپنے مقدس کلمات سے نوازتے تھے اور صبح کی سیر کے دوران میں علم و معرفت کے پھول بکھیرتے۔یہ بھی گویا ایک چلتا پھرتا دربار تھا جس میں یہ روحانی شہنشاہ تقریروں سے اپنے عشاق کی تشنگی بجھاتا اور ان کو ایک زندہ ایمان عطا فرماتا۔۱۷/ نومبر ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے کہ حضور اقدس علیہ السلام حسب معمول سیر کے لئے گئے۔راستہ میں حضرت میر ناصر نواب صاحب نے ایک عزیز کے نام) اپنا ایک تبلیغی خط سنانا شروع کیا۔خط کافی لمبا تھا جو حضور کے واپس گھر پہنچنے پر بھی ختم نہ ہوا تھا۔لہذا حضور اقدس علیہ السلام حضرت مولوی نور الدین صاحب کے مطب میں بیٹھ گئے۔حضرت میر صاحب کے عزیز نے اپنے خط میں ترکوں کی مذمت کی تھی۔حضرت میر صاحب اس کا معقول جواب سنا رہے تھے کہ حضرت اقدس نے اس پر فرمایا اگر چہ ہمارے نزدیک " ان اکرمکم عند الله اتقكم " ہی ہے اور ہمیں خواہ مخواہ ضروری نہیں کہ ترکوں کی تعریف کریں یا کسی اور کی۔مگر یچی اور حقیقی بات کے اظہار سے ہم رک نہیں سکتے۔ترکوں کے ذریعہ سے اسلام کو بہت بڑی قوت حاصل ہوئی ہے۔۔۔۔دنیا میں خدا تعالٰی نے دو ہی گروہ رکھے ہوئے ہیں۔ایک ترک دو سرے سادات۔ترک ظاہری حکومت اور ریاست کے حقدار ہوئے اور سادات کو فقر اور روحانی فیض کا مبداء قرار دیا گیا۔چنانچہ صوفیوں نے