تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 193
19۔تعریف نبوت میں تبدیلی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اشتہار ایک غلطی کا ازالہ " شائع کیا ان دنوں میں مستقل طور پر قادیان چلا آیا تھا اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ایک صاحب محمد شاہ ساکن تونسہ اس زمانہ میں مطبع میں ملازم تھے انہوں نے صبح کی نماز کے بعد مجھ سے اس اشتہار کا ذکر کیا۔۔۔میں خودای وقت مطیع میں گیا اور ایک کاپی ایک غلطی کا ازالہ " لے کر پڑھی۔اس وقت سے میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی یقین کرتا ہوں۔یه ای اشتہار کا اثر تھا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جو مسجد مبارک کے امام تھے اب اپنے خطبات و مضامین میں گزشتہ سال سے بھی زیادہ زور اور وضاحت سے حضرت اقدس کی نبوت و رسالت پیش کرنے لگے اور آخر وقت تک حضور کی موجودگی میں سلسلہ احمدیہ کو منہاج نبوت پر قائم - ہونے والا سلسلہ اور حضور کو نبی رسول مرسل اور صادق مرسل کے نام سے یاد کرتے رہے۔اس ضمن میں حضرت مولوی صاحب کی تحریرات کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں بھی ایک خاص تبدیلی عقیدہ کا پتہ چلتا ہے۔چنانچہ آپ نے ۱۴۔اپریل ۱۸۹۸ء کو اپنے ایک خط میں جو ” خلافت راشدہ " میں شائع ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ”ہمارے مجدد سلمہ اللہ تعالٰی" کے الفاظ سے یاد کیا۔لیکن جب انہوں نے اس کتاب کا مقدمہ ۱۲ / جون ۱۹۰۲ء کو لکھا تو اس میں حضور کو حضرت نبی اللہ" سے موسوم کیا اور اس بارہ میں حضرت مولانا کا عقیدہ اتنا پختہ ہو گیا کہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے ایک مرتبہ آپ نے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کی اے خدا کے مرسل تیری رسالت کی قسم کہ یہ معاملہ اس طرح ہے"۔حضور کے دوسرے صحابہ کا آپ کے نبی ہونے کے متعلق جو ایمان تھا اس کی متعدد شہادتیں طبع شدہ موجود ہیں جن سے یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ بعض صحابہ تو حضور کے فیض صحبت کے نتیجہ میں اس اعلان سے پہلے ہی سمجھ چکے تھے کہ آپ سچ سچ نبی ہیں۔تاہم اس اعلان کے بعد وہ حضور کی خدمت میں خط لکھتے ہوئے حضور کو بر ملانی اللہ کے القاب سے یاد کرنے لگے۔یہ اظہار صرف خطوط اور زبانی گفتگوؤں تک محدود نہیں تھا بلکہ سلسلہ کے اہل قلم کی طرف سے اخبار الحکام اور بدر میں بکثرت ایسے مضامین شائع ہوئے جن میں آپ کو نبی کے طور پر پیش کیا گیا۔اس پر باقاعدہ قرآن و حدیث اور عقل سے دلائل لکھے گئے۔خصوصاً رسالہ "ریویو آف ریلیجن" کے سابق ایڈیٹر مولوی محمد علی صاحب نے " ریویو آف ریلیجز " میں آپ کے مقام نبوت و رسالت کا تذکرہ بڑی کثرت و صفائی سے کیا۔غرض که نبوت مسیح موعود کا مسئلہ حضرت اقدس کی زندگی ہی میں جماعت احمدیہ کا مسلمہ متفقہ اور اجماعی عقیدہ بن گیا۔چنانچہ حضرت اقدس" کی وفات پر حضور کے کارناموں کے متعلق