تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 191
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ١٨٨ تعریف ثبوت میں تبدیلی خدا سے خبر پا کر پیش گوئی کرنا اور نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔یہ صرف موہت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔پس میں جب کہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیوں کر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خد اتعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیوں کر رد کردوں یا کیوں کر اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔۔۔اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں میں کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتد ا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔اور میرا یہ قول کہ ”من سیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی ا - " ** ایک غلطی کا ازالہ " کے حاشیہ میں فیصلہ کن تصریحات ایک غلطی کا ازالہ " کے حاشیہ میں حضور نے تحریر فرمایا کہ یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے۔پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہ السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیبیہ کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول سے ظاہر ہے۔پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔اور آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں۔مصفی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے اس لئے مانا پڑتا ہے کہ اس موہت کے لئے محض بروز اور خلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔"