تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 6
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 4 مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام دو عظیم الشان انعامی چیلنج ۱۸۹۸ء کے آغاز میں حضرت مسیح موعود نے دو عظیم الشان انعامی چیلنج دیئے جنہیں قبول کرنے کی آج تک کسی شخص کو توفیق نہیں مل سکی۔پہلا چیلنج پہلا چیلنج عیسائیوں کے نام تھا جو حضور نے "کتاب البریہ " میں بایں الفاظ دیا۔بھلا اس سید الکونین ﷺ کی تو شان عظیم ہے۔ذرا انصافا پادری صاحبان ان میرے الہامات کو ہی انصاف کی نظر سے دیکھیں اور پھر خود ہی منصف ہو کر کہیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر ایسے کلمات سے خدائی ثابت ہو سکتی ہے تو یہ میرے الہامات یسوع کے الہامات سے بہت زیادہ میری خدائی پر دلالت کرتے ہیں۔اور اگر خود پادری صاحبان نہیں سوچ سکتے تو کسی دوسری قوم کے تین منصف مقرر کر کے میرے الہامات اور انجیل میں سے یسوع کے وہ کلمات جن سے اس کی خدائی سمجھی جاتی ہے ان منصفوں کے حوالہ کریں۔پھر اگر منصف لوگ پادریوں کے حق میں ڈگری دیں اور حلفایہ بیان کر دیں کہ یسوع کے کلمات میں سے یسوع کی خدائی زیادہ تر صفائی سے ثابت ہو سکتی ہے تو میں تاوان کے طور پر ہزار روپیہ دے سکتا ہوں۔" دوسرا چیلنج دو سرا بیس ہزار روپیہ انعام کا چیلنج حضور نے مسلمان علماء کو دیا جو یہ ہے۔یہ ہے۔"اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے ؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔۔۔۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا کوئی وضعی حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسی جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے اور پھر کسی زمانے میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تادان دے سکتے ہیں اور تو بہ کرنا اور تمام کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔جس طرح چاہیں تسلی کرلیں۔" الله