تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 181
تاریخ احمدیت - جلد ۲ 14A رسالہ " ریویو آف ریلیج " کی تجویز کمر کے نہایت بے دردی سے شہید کر دئیے گئے حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب احمدیت کے وہ پہلے بزرگ تھے جنہیں حق و صداقت کی راہ میں جام شہادت نوش کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود کو اس سے قبل الہام ہو چکا تھا کہ "شاتان تذبحان " کہ دو بکرے مارے جائیں گے۔چنانچہ اس الہام کے مطابق سب سے پہلے حضرت مولوی صاحب موصوف شہید کئے گئے۔یہ حادثہ وسط ۱۹۰۱ء میں ہوا۔قادیان میں اس کی خبر نومبر میں حضرت مولوی عبدالستار صاحب کے ذریعہ سے پہنچی جو اپنے تین رفقاء سمیت علاقہ خوست غزنی سے حضور کی زیارت کے لئے تشریف لائے تھے۔کہتے ہیں اس حادثہ شہادت پر افغانستان کی سرزمین میں کئی آسمانی نشان ظاہر ہوئے۔۵۴ امیر عبدالرحمن خاں پر فالج سب سے بڑا نشان یہ تھا کہ امیر عبدالرحمن خاں صاحب پر اس ظلم کی پاداش میں 10 ستمبر ۱۹۰ء کو فالج گرا۔ہندوستان اور افغانستان کے حاذق طبیبوں اور ماہر ڈاکٹروں نے بڑا علاج کیا مگر بیماری یہاں تک بڑھ گئی کہ اٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور ہو گئے اور بالاخر ایک ماہ تک اس مرض میں مبتلا ہو کر ۳/ اکتوبر ۱۹۰۱ ء کو چل ہے۔امام الزماں کی کتابوں کے امتحان کی تحریک ۵۵ حضرت اقدس مسیح موعود نے 9 ستمبر ۱۹۰۱ء کو مفید الاخیار" کے نام سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں حضور نے اپنی اس دلی خواہش کا اظہار فرمایا کہ ہماری جماعت میں کم از کم ایک سو اہل کمال و فضل پیدا ہونے چاہئیں جو سلسلہ کے علم کلام اور اس کے دلائل و نشانات سے اچھی طرح آگاہ ہوں اور غیر مسلموں کے زہر یلے لٹریچر کے بداثرات سے ہر طالب حق کو نجات دے سکیں۔اس غرض کے لئے حضور نے یہ اہم تحریک فرمائی کہ ہر سال قادیان میں دسمبر کی تعطیلات میں حضور کی کتابوں کا امتحان لیا جائے اور جو خدام اس امتحان میں کامیاب ہوں ان کو سلسلہ کی تبلیغی خدمات پر مامور اور دعوت حق کے لئے مناسب مقامات پر بھیجا جائے۔مرام " " پہلے امتحان کے لئے جو کورس تجویز کیا گیاوہ مندرجہ ذیل کتب پر مشتمل تھا۔فتح اسلام توضیح ازالہ اوہام »، « انجام آتھم »، «ایام الصلح »» « سرمه چشم آرید"، "حمامته البشری" - fee خطبہ الہامیہ "۔نیز فیصلہ ہوا کہ یہ امتحان ۲۷/ دسمبر ۱۹۰۱ء کو ختم ہو جائے گا۔جو لوگ دور و دراز مقامات سے شامل نہ ہو سکیں وہاں پرچے روانہ کر دئیے جائیں گے جو ایک مہتمم کی نگرانی میں بغرض جواب تقسیم ہوں گے۔امتحان میں شریک ہونے والے امیدواروں کی فہرست کی تیاری کا کام ایڈیٹر الحکم جناب شیخ یعقوب علی صاحب تراب کے سپرد ہوا۔مگر اتنی سعی و جدو جہد کے باوجود افسوس