تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 180
تاریخ احمدیت - جلد ۲ 144 سالہ ریویو آف ریلیجہ " کی تجویز روحانی علاج کی طرف سے توجہ دلائی۔کابل میں حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب کی شہادت حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب کا قادیان کی طرف آخری سفر جیسا کہ ۱۹۰۰ء کے حالات میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کے سفیر مولوی عبد الرحمن صاحب کو دو یا تین مرتبہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں رہنے کا شرف نصیب ہوا۔ہر مرتبہ کئی کئی ماہ تک حضور سے فیض پاتے اور حضور کی دعاوی اور تعلیمات پر ایک نیا ایمان لے کر لوٹتے تھے۔آخری بار وہ دسمبر ۱۹۰۰ ء میں قادیان آئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ آفریدی ، وزیری اور محسودی وغیرہ آزاد قبائل ڈیورنڈ لائن کو اپنی خود مختاری اور آزادی کے لئے خطرہ تصور کر کے سرحد پر انگریزوں کے خلاف بڑے جوش و خروش سے اٹھے ہوئے تھے۔اس شورش کو علماء نے بھاری تقویت دی جنہوں نے جہاد کے نام پر انگریزوں کے قتل کا فتویٰ دے دیا خود امیر عبدالرحمن خاں کی خاص ہدایت پر ایک رسالہ ” تقویم الدین دربارہ تحریک جہاد" کے نام سے سرحد پر شائع کیا گیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ آزاد قبائل میں شورش کی آگ پورے زور سے بھڑک اٹھی اور محض اختلاف مذہب کی بناء پر پشاور اور بنوں میں کئی انگریز موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔جہاد ایسے مقدس مسئلہ کی اس غلط تعبیر نے اسلام اور مسلمان در نو کو بہت بد نام کیا اور انگریز اور دوسرے غیر مساسوں میں یہ خیال پختہ ہو گیا کہ مسلمان رہزنوں اور ڈاکوؤں کی طرح بن جائیں گے اور جہاد کے بہانہ سے اپنے نفس کی خواہش پوری کریں گے۔لہذا حضرت اقدس علیہ السلام نے مسئلہ جہاد کی اسلامی نکتہ نگاہ سے وضاحت بیان کرنے کے لئے بعض رسائل شائع کئے جیسا کہ پہلے ۱۹۰۰ ء کے حالات میں ذکر آچکا ہے۔حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحب نے جب قادیان میں حضور اقدس کے یہ رسائل پڑھے تو ان پر مسئلہ جہاد کی حقیقت بالکل آشکار ہو گئی۔کچھ عرصہ قیام کے بعد پھر کابل گئے جہاں انہوں نے جب مسئلہ جہاد کے متعلق اپنا مسلک پیش کیا تو امیر عبدالرحمن خاں (۱۸۴۴ - ۱۹۰۱) سے شکایت کی گئی جسے بعض شریر پنجابیوں نے جو اس کے ملازم تھے اور زیادہ ہوادی اور ظاہر کیا کہ یہ ایک پنجابی شخص کا مرید ہے جو اپنے تیں مسیح موعود ظاہر کرتا ہے اس کی تعلیم یہ ہے کہ انگریزوں سے جہاد درست نہیں بلکہ اس زمانہ میں وہ قطعاً جہاد کا مخالف ہے۔امیر عبد الرحمن خاں نے جو یہ سنا تو اس نے سخت برافروختہ ہو کر حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحب کی نظر بندی کا حکم دے دیا اور بالاخر آپ گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند