تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 177 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 177

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۷۴ رسالہ " ریویو آف ریلیوں کی تجویز جب تک خدا تعالٰی کے مقرر کردہ حکم کی بات کے سامنے اپنی زبانوں کو بند نہ کرو گے وہ ایمان پیدا نہیں ہو سکتا جو خدا چاہتا ہے اور جس غرض کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میرا یہ عمل اپنی تجویز اور خیال سے نہیں اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے ہے اور رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے لئے ہے میں ایسے لوگوں کو صلاح دیتا ہوں کہ وہ کثرت سے استغفار کریں اور خدا سے ڈریں ایسانہ ہو کہ خدا ان کی جگہ اور قوم لاوے تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حکم عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کی فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات یا تو ہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا۔لیکن اگر تم نے بچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور نقل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ کی پاک باتوں کی عزت و عظمت کرنے والے ٹھرو۔رسول اللہ ﷺ کی شہادت کافی ہے وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا۔وہ حکم عدل ہو گا۔اگر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو پھر کب ہو گی۔یہ طریق ہر گز اچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میں بد خنیاں بھی ہوں۔میں اگر صادق نہیں ہوں تو پھر جاؤ اور صادق تلاش کرو۔" مخالف علماء کو صلح کی مخلصانہ پیشکش حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی مسیحت سے لے کر اس وقت تک مخالف علماء جماعت احمدیہ کو مسلم معاشرہ سے بالجبر کاٹ پھینکنے کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے تھے مگر حضرت اقدس تو امن و سلامتی کے شاہزادے تھے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی آپ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔آپ نے مسلسل دس سال تک اذیتیں برداشت کیں اور اف تک نہ کی۔اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے معتقدین کو مظالم کا تختہ مشق بنتے دیکھا اور انہیں صبرو تحمل کی تعلیم دی گالیاں سنیں اور اس کے جواب میں دعاؤں اور تعلق باللہ کی ہدایت فرمائی لیکن اس نرمی اخلاق اور محبت و مروت کا علماء پر یہ الٹا اثر ہوا کہ وہ اور زیادہ تشدد پر اتر آئے۔بالا خر حضرت اقدس نے امت کی صفوں میں یک جہتی اور اتحاد پیدا کرنے کے لئے ۵ / مارچ ۱۹۰۱ء کو ایک اشتہار دیا جس میں علماء کو صلح کی یہ نہایت مخلصانہ پیشکش کی کہ آئندہ فریقین ایک پختہ عہد کریں کہ وہ اور تمام وہ لوگ جو ان کے زیر اثر ہیں ہر ایک قسم کی سخت زبانی سے باز رہیں اور کسی تحریر یا تقریر یا اشارہ کنایہ سے فریق مخالف کی عزت پر حملہ نہ کریں اور اگر دو نو فریق میں سے کوئی صاحب اپنے فریق مخالف کی مجلس میں جائیں تو جیسا کہ