تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 176
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۷۳ رسالہ " ریویو آف ریلی کی تجویز کی اپنے لئے ضرورت نہیں کبھی گو خدا نے اپنے فضل سے ان کو سینکڑوں نشان دکھا دیے لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہو تا تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ تھے۔چنانچہ مولوی نور الدین صاحب کسی نشان کے طالب نہیں ہوئے۔انہوں نے سنتے ہی امنا کہہ دیا اور فاروقی ہو کر صدیقی عمل کر لیا۔لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے واپس آئے تو راستہ ہی میں آنحضرت کے دعوی نبوت کی خبر پہنچی۔وہیں انہوں نے تسلیم کر لیا۔" حضرت اقدس کی اس پر معارف تقریر نے ایک نیا ایمان و عرفاں پیدا کر دیا۔حضرت مولوی نور الدین صاحب پر تو اس کا اتنا اثر ہوا کہ آپ عقیدت وارادت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اٹھے اور عرض کیا کہ میں اس وقت حاضر ہوا ہوں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی رسول کریم اللی کے حضور رضیت بالله ربا وبمحمد نبیا کہہ کر اقرار کیا تھا۔اب میں اس وقت صادق امام صحیح موعود اور مہدی معہود کے حضور رہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور دہم حضور کے متعلق نہیں گزرا۔یہ خدا تعالی کا فضل ہے۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں اور میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوت کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں۔میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں رضينا بالله ربا و بک مسیحا و مهدیا۔اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدس نے اپنی تقریر ختم کر دی۔مولانا محمد احسن صاحب جنہوں نے دراصل یہ سوال اٹھایا تھا زار و قطار رو رہے تھے اور توبہ کر رہے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ آداب رسالت اختیار کرنے کی پر حکمت تلقین اسلام چونکہ خدا تعالی کی طرف سے حکم و عدل کے مقدس منصب پر فائز تھے اس لئے حضور نے اس تقریر میں اظہار نار انسگی کرتے ہوئے اپنے خدام کو اس امر کی خاص طور پر تلقین فرمائی کہ وہ سوالات کے معاملہ میں آداب ملحوظ رکھیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔ہماری جماعت کے لئے تو یہ امر دور از ادب ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں پیش کریں یا ان کے وہم میں بھی ایسی باتیں آئیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں جو کرتا ہوں وہ خدا تعالی کی تقسیم اور اشارہ سے کرتا ہوں۔پھر کیوں اس کو مقدم نہیں کرتے۔۔۔اگر اس قدر نشان دیکھتے ہوئے بھی کوئی اعتراض کرتا اور علیحدہ ہو تا ہو تو وہ بے شک نکل جاوے اور علیحدہ ہو جاوے اس کی خدا کو کیا پر وا ہے وہ کہیں جگہ نہیں پاسکتا۔جب کہ خدا تعالٰی نے مجھے حکم عدل ٹھرایا ہے اور تم نے مان لیا ہے۔پھر نشانہ اعتراض بنا نا ضعف ایمان کا نشان ہے۔حکم مان کر تمام زبانیں بند ہو جانی چاہئیں۔۔۔