تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 173
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 14۔رسالہ " ریویو آف ریا بود " کی تجویز ریلیج رئیس العارفین مولانا حضرت مہر علی شاہ صاحب کی تصنیف قرار دے کر شائع کیا گیا ہے۔یہ انکشاف ان پر اتفاق ہوا۔وہ پیر مہر علی شاہ صاحب کی تصنیف " سیف چشتیائی بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ ایک آدمی مولوی محمد حسن صاحب کے گھر کا پتہ پوچھتا ہوا ان کے پاس آیا۔اس کے پاس کچھ کتابیں بھی تھیں۔استفسار پر اس آدمی نے بتایا کہ مولوی محمد حسن صاحب کی یہ کتابیں پیر صاحب نے منگوائی تھیں جواب واپس دینے آیا ہوں۔شہاب دین نے وہ کتابیں دیکھیں تو ایک اعجاز امسیحی" اور دوسری "شمس بازنہ " تھی جن پر مولوی محمد حسن صاحب متوفی کے لکھے ہوئے نوٹ تھے۔انہوں نے ان نوٹوں کا " سیف چشتیائی" سے مقابلہ کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جو کچھ محمد حسن صاحب نے لکھا تھا وہ کسی تصرف کے بغیر اس کتاب میں موجود تھا جس پر انہوں نے جوش میں آکر براہ راست گولڑوی FP صاحب کو خط لکھا کہ آپ نے کیا لکھا جو کچھ محمد حسن کے نوٹ تھے وہی درج کر کے شائع کر دئے۔جناب گولڑوی صاحب نے جو یہ راز کھلتا دیکھا تو انہوں نے محمد حسن صاحب کے والد کو خط لکھا کہ شہاب الدین کو وہ یہ کتابیں مت دکھا ئیں یہ ہمارا مخالف ہے۔انہوں نے اپنے قلم سے بھین کے ایک مولوی محمد کرم الدین صاحب کو ایک کارڈ لکھا جس میں انہوں نے از خود اعتراف کر لیا کہ مولوی محمد حسن صاحب کے نوٹ لے کر انہوں نے "سیف چشتیائی " کی رونق بڑھائی ہے۔مولوی کرم الدین صاحب اور میاں شہاب الدین صاحب نے نہ صرف یہ خط حضرت اقدس کی خدمت میں ضروری تفصیل کے ساتھ ارسال کر دیا بلکہ انتہائی کوشش کر کے وہ دونوں کتابیں بھی بھیجواد ہیں جن پر مولوی محمد حسن صاحب کے لکھے ہوئے نوٹ درج تھے جس پر مولوی کرم الدین صاحب، میاں شهاب الدین صاحب اور گولڑوی صاحب کے خطوط الحکم (۱۷) ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۔۱) میں پبلک کے سامنے شائع کر دئے گئے اور مولوی غمازی صاحب اور ان جیسے خوش عقیدہ لوگوں کو علم ہوا کہ ان کے پیرو مرشد کس پایہ کے انسان ہیں ابر حال پیر مہر علی شاہ صاحب اس واقعہ کے بعد مزید ۳۵ سال تک زندہ رہے اور ا / مئی ۱۹۳۷ ء کو فوت ہوئے مگر وہ اعجاز المسیح " کا جواب لکھنے کی توفیق نہ پاسکے۔پیر صاحب کے سوانح نگار مولوی فیض احمد صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ "حضرت قبلہ عالم " (یعنی پیر صاحب نے تفسیر لکھنے کا قصد تو کیا تھا مگر پھر دست کش ہو گئے اور یہ دلچسپ عذر پیش کیا کہ " میرے خیال تغییر نویسی پر میرے قلب پر معانی و مضامین کی اس قدر بارش شروع ہو گئی ہے جسے ضبط تحریر میں لانے کے لئے ایک عمر در کار ہوگی اور کوئی اور کام نہ ہو سکے گا" ("مر منیر صفحہ ۲۳۵- اشاعت ۱۹۷۳ء گولڑہ)