تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 171
تاریخ احمدیت جلد ۲ (4A رسالہ " ریویو آف ریلی " کی تجویز اعجاز المسیح کے دوران تصنیف کا ایک واقعہ اعجاز امسیح کے دوران تصنیف کا ایک واقعہ ہے کہ ۱۵ فروری 1901ء کو تعلیم الاسلام سکول کے طلبہ کا کرکٹ میچ تھا۔حضرت اقدس کے ایک صاحبزادہ نے بچپن کی سادگی میں کہا کہ آیا آپ کیوں کرکٹ پر نہیں گئے۔بچہ کا یہ معصومانہ سوال سن کر حضور پر نور نے جواب دیا۔لوگ تو کھیل کر واپس آجائیں گے مگر میں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جو قیامت تک باقی رہے گا۔" اعجاز مسیح کے جواب سے علماء کا عاجز آنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اعجاز المسیح متعلق یہ الہام ہوا تھا کہ من قام للجواب وتنمر فسوف يرى انه تندم و تذمر - یعنی جو شخص اس کتاب کے جواب پر آمادہ ہوا۔وہ عنقریب دیکھ لے گا کہ وہ نادم ہو گا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گا۔چنانچہ حضور نے یہ پیش گوئی " اعجاز المسیح" کے سرورق پر درج کرنے کے علاوہ اس کتاب میں بھی بڑی تحدی کے ساتھ یہ اعلان فرما دیا کہ اگر آپ کے مقابل دنیا بھر کے علماء ، حکماء اور فقہاء اور چھوٹے بڑے سب جمع ہو کر اس جیسی تغییر لکھنا چاہیں تو وہ ہر گز نہیں لکھ سکیں گے۔چنانچہ اس عظیم الشان پیش گوئی کے مطابق نہ پیر صاحب کو نہ ان کے علاوہ عرب و عجم کے کسی بڑے سے بڑے عالم و فاضل کو اس کتاب کا فصیح عربی میں جواب دینے کی جرات ہو سکی۔مولوی محمد حسن صاحب فیضی کا ادعائے جواب اور اس کی سزا مولوی محمد حسن فیضی ساکن موضع بھین تحصیل چکوال ضلع جہلم (مدرس مدرسہ نعمانیہ واقع شاہی مسجد لاہور) نے عوام میں شائع کیا کہ میں اس کتاب کا جواب لکھتا ہوں مگر سلطان القلم کے بیان فرمودہ حقائق و معارف کا وہ عربی میں کیا جواب دے سکتے تھے ؟ انہوں نے اردو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعادی کے خلاف "اعجاز مسیح اور مولانا امردی کی کتاب "شمس بازغہ " کے حاشیہ پر ایک لمبا چوڑا مضمون لکھا جس میں انہوں نے ضمناً اعجاز المسیح کی چند مفروضہ غلطیاں بھی تحریر کیں اور بعض تو اردات کو سرقہ قرار دیتے ہوئے آسمانی نکات کا بھی مذاق اڑایا اور بالاخر بعض مقامات پر " لعنه الله على الكاذ بين " تک لکھ ڈالا لیکن اس لعنت پر ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ خود موت کے پنجے میں آگئے۔اس طرح انہوں نے اعجاز مسیح کے خلاف قلم اٹھا کر معاذ اللہ خدا کے جری پہلوان کی ذلت و شکست کا ارادہ کیا تو خود ہی چند دنوں کے اندر اندر اس جہاں سے ہزاروں حسرتوں کے ساتھ اٹھ گئے اور ان کی موت