تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 170 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 170

تاریخ احمدیت جلد ؟ 142 رساله ربع بع آف کی تجویز عربی تغیر "اعجاز المسیح کی تصنیف و اشاعت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیر مہر علی شاہ صاحب اور ان کے ہمنو علماء کو بالمقابل تغییر فاتحہ شائع کرنے کا جو چیلنج دے رکھا تھا اس کی میعاد حضور نے ۱۵/ دسمبر ۱۹۰۰ ء سے ۲۵/ فروری ۱۹۰۱ء تک مقرر فرمائی تھی اور لکھا تھا کہ " فریقین میں سے کوئی فریق تغیر چھاپ کر شائع نہ کرے۔اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔" سوخدا کے فضل اور اس کی خاص تائید سے حضور کے قلم سے ۱۲۳ فروری ۱۹۰۱ء کو "انجاز المسیح" کے نام سے فصیح و بلیغ عربی میں سورہ فاتحہ کی تفسیر چھپ کر شائع ہو گئی جو حضور کا ایک عظیم الشان نشان اور بے مثال علمی معجزہ تھا۔" حضور کو قبل از وقت بتایا گیا تھا کہ آپ کو ایک عزت کا خطاب عطا ایک عزت کا خطاب ہو گا اور اس کے ساتھ بڑا نشان دیا جائے گا۔" اعجاز المسیح " سے اللہ تعالی کی یہ بشارت بھی پوری ہوئی اور آپ جناب الہی کے دربار سے ایک عزت کی کرسی پر بٹھائے گئے اور سورہ فاتحہ کی تفسیر سے ایک قابل فخر عزت کا خطاب آپ کو عطا ہوا۔حضور نے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں تصنیف کی تکمیل میں روح القدس کی تائید یه تغییر تصنیف فرمائی تھی کیوں کہ ۲۰/ جنوری ۱۹۰۱ ء تک تو حضور اپنی دیگر دینی مصروفیات کے باعث صرف اردو میں مختصر مواد لکھ سکے تھے اور باوجودیکہ آپ پر ان دنوں مختلف امراض کے ایسے ایسے سخت حملے ہوئے کہ آپ خیال کرتے تھے کہ آخری دم ہے۔اللہ تعالٰی نے آپ کی روح القدس سے ایسی غیر معمولی تائید و نصرت فرمائی کہ آپ نے عربی زبان میں قلم برداشتہ لکھنا شروع کیا۔غیب سے بے تکلف مضامین اور الفاظ صف بستہ ہو کر آتے جاتے تھے۔ایک مرتبہ مولانا سید محمد احسن صاحب کو کتاب کے پروف دیکھتے ہوئے ایک جگہ پر یہ شبہ ہوا کہ جو لفظ حضور اقدس نے استعمال فرمایا ہے اس کا صلہ آنا چاہئے۔چونکہ کتاب کا مضمون خدا کی طرف سے آپ کے دل پر جاری ہو ا تھا اس لئے جب حضور کے سامنے اس شبہ کا اظہار کیا گیا تو حضور نے فرمایا ” جو کچھ میں نے لکھا ہے صحیح ہے آپ لغت کی کتاب دیکھ لیں۔" چنانچہ مولانا صاحب موصوف نے لغت کی بہت سے کتابوں کی ورق گردانی کے بعد معلوم کر لیا کہ جو کچھ حضور نے لکھا تھا وہ درست تھا۔14 A