تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 167
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۶۴ جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہونا حافظ صاحب مولوی عبد الکریم صاحب ثانی تھے اور اس بات کے مستحق تھے کہ ہر ایک احمدی انہیں نہایت ہی عزت و توقیر کی نظر سے دیکھے۔انہوں نے اسلام کی بڑی بھاری خدمت سر انجام دی ہے اور جب تک یہ مقدس سلسلہ دنیا میں قائم ہے ان کا کام کبھی نہ بھولے گا۔ان کی وفات ہمارے سلسلہ اور اسلام کے لئے ایک بڑا صدمہ ہے۔" (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الفضل -۲۸ جون ۱۹۲۹ء صفحه ۱ ۸٬۷۲ و الفضل ۲ - اگست ۱۹۳۹ء صفحہ ۷ - ۸ رساله " جامعه احمدیه " ( قادیان سالنامه دسمبر ۱۹۳۰ء صفحه ۳ رسالہ " الفرقان (ربوہ) دسمبر ۱۹۹۰ء) ۲۱ ولادت ۱۸۷۸ء۔وفات ۱۹۔فروری ۱۹۵۷ء۔بہت دعا گو شب بیدار اور صاحب کشف و رویا بزرگ تھے۔اگست ۱۹۰۰ ء میں جب کہ آپ افریقہ میں ملازم تھے بذریعہ خط بیعت کی۔فروری ۱۹۰۱ء میں قادیان آئے اور حضرت اقدس کی پہلی زیارت کا شرف حاصل کیا۔حضرت اقدس کی زندگی میں آپ کو ایک سال تک مع اہل و عیال قادیان میں رہائش کی توفیق ملی اور بہت سے نشانات و معجزات کا مشاہدہ کیا۔۱۹۰۴ ء میں مدرسہ احمدیہ کی شمالی طرف مکانات خریدے مگر الوصیت کی اشاعت پر ان کو وصیت میں دے دیا۔ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد غالبا ۱۹۲۸ ء میں مستقل طور پر قادیان میں آگئے اور بقیہ عمر قادیان اور پھر ربوہ میں بسر کی الفضل ۲۱۔فروری ۱۹۵۷ء صفحه الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۵۸ء صفحه ۳ " روایات صحابه " جلد ۵ صفحه ۲۱ تا ۲۸) وفات -۲۹ اکتوبر ۱۹۳۸ء ضلع ڈیرہ غازی خان میں جہاں جہاں قدیم احمد یہ جماعتیں موجود ہیں (مثلا بستی بزدار بستی رنداں بستی مند رانی کوٹ قیصرانی) وہ سب آپ کی تبلیغ سے قائم ہوئیں۔حضرت مسیح موعود کا جب دلی میں نکاح ہوا تو اس وقت مولوی صاحب وہاں بخاری شریف پڑھتے تھے اور اسی محلہ میں مقیم تھے جہاں حضرت میر ناصر نواب صاحب کا مکان تھا۔ابتداء " ازالہ اوہام " اور " آئینہ کمالات اسلام " کا مطالعہ کیا جن سے سب ہی شکوک دور ہو گئے اور بذریعہ خط بیعت کرلی۔دسمبر ۱۹۰۰ ء میں پہلی مرتبہ قادیان گئے اور دستی بیعت سے مشرف ہوئے۔قادیان سے واپسی کے بعد دریائے سندھ کے شرقی اور غربی علاقہ میں آپ کے خلاف زبر دست مخالفت اٹھ کھڑی ہوئی مگر آپ دیوانہ وار تبلیغ میں مصروف رہے اور کئی روحوں کو احمدیت میں لانے کا موجب ہے۔(احکم ۱۴ فروری ۲۸۔فروری ۷۔مارچ ۱۹۳۹ء) ۰۲۳ ولادت ۱۸۷۵ء بیعت ۲۸- تمبر ۱۹۰۰ع (الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۸۰ء ص ۷ ) وفات ۲- نومبر۱۹۱۶ ء بڑے مخلص اور جری اور پر جوش مبلغ تھے۔آپ نے صرف کثیر سے مینارہ مسیح کا کتبہ بنایا جو متارہ پر نصب ہے تصانیف الہام اعسم مع اختیار ابراہیم ۲۔احمد رسول۔ڈاکٹر محمد شاہنواز خاں صاحب ( ریٹائرڈ میجر و میڈیکل مشنری سیرالیون) آپ ہی کے فرزند تھے (الفضل ۱۱/۱۴ نومبر ۱۹۱۶ ء ص ۲)