تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 166
تاریخ احمدیت جلد ۲ -19 جماعت کا فرقہ احمد یہ سے موسوم ہونا فارسی کے چوٹی کے قادر الکلام شاعر تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو " فردوسی " کا لقب عطا فرمایا تھا۔اور حضرت مولانا نور الدین تو فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب فارسی کے اتنے بڑے عالم ہیں کہ مجھے رشک آتا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسا علم عربی زبان میں ہو تا۔مولانا کے انتقال پر اختلاف مسلک کے باوجود ہندوستان کے علمی طبقہ میں گہرے رنج و غم کا سایر اظہار کیا گیا۔(مفصل حالات کے لئے ملاحظہ ہو احکام ۳۹۔۱۹۳۸ء) ۱۹ بر صغیر ہند و پاکستان کے مشہور سیاسی لیڈر علی برادران کے بڑے بھائی ۱۸۹۹ء میں بمقام رام پور ضلع مراد آباد (یو پی) میں پیدا ہوئے اور ۲۶۔فروری ۱۹۵۴ء کو لاہور میں انتقال فرمایا اور ربوہ میں صحابہ کے قطعہ خاص میں سپرد خاک ہوئے۔۱۸۸۸ ء میں "ریاض الاخبار " گورکھپور) میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط الیگزینڈر رسل ویب سفیر امریکہ فلپائن کے نام شائع ہوا تھا جسے دیکھ کر حضرت خان صاحب کو پہلی مرتبہ حضرت اقدس سے نہیں تعارف ہوا۔1900ء میں " ازالہ اوہام کا مطالعہ کرتے ہی حضور کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔پہلی بار ۱۹۰۴ء میں بمقام گورداسپور حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔اس وقت آپ نائب تحصیل دار تھے۔۱۹۲۰ء میں مستقل طور پر قادیان میں ہجرت کر کے آگئے ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالی جن خدام کو اپنے ساتھ یورپ لے گئے ان میں حضرت خان صاحب بھی تھے۔پاکستان بننے سے قبل کراچی میں کسی کا نگری لیڈر نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے دو چھوٹے بھائیوں نے تو وطن کی آزادی کے لئے جدوجہد کی آپ نے ایسا کیوں نہ کیا۔جواب دیا میں بڑا بھائی تھا اس لئے میں نے اپنے ذمہ بڑا کام لیا۔اس نے پو چھا کون سا۔فرمایا ساری دنیا شیطان کی غلامی میں پھنسی ہے اور ساری دنیا کو آزاد کرانا ہندوستان کی آزادی سے بڑا کام ہے اس لئے میں اس تحریک میں شامل ہوں اور اس کا سپاہی ہوں جس تحریک کا یہی مقصد ہے یعنی تحریک احمدیت ( " روایات صحابہ " جلده صفحه ۳۴۷ تا ۳۷۹- الفضل ۱۳-۱۲-۱۷ مارچ (-1900 ۲۰ ولادت ۸۴ ۱۸۸۳ وفات ۲۳ جون ۱۹۲۹ء موضع رنمل ( تحصیل پھالیہ ضلع گجرات) کے مشہور صوفی اور اہل اللہ حضرت نوشہ کی دسویں پشت میں تھے۔بچپن میں حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی سے قرآن حفظ کیا۔۱۸۹۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آئے (الحکم ۱۰۔نومبر ۱۸۹۹ء صفحہ سے کالم (۳) اور غالباء 190 ء میں حضرت مولانا نور الدین کی شاگردی اختیار کی۔آپ کی صرف ایک آنکھ میں معمولی بینائی تھی اس لئے تمام دینی علوم محض سن کر تحصیل کئے اور بالا تر اپنی زبر دست قوت حافظہ اور خداد ازہانت سے نہ صرف موعود جماعت کے علماء کی صف اول میں شمار ہوئے بلکہ جماعت میں بڑے بڑے نامور علماء پیدا کرنے کا موجب ہے۔تفسیر علم کلام، حدیث تصوف اور ادب کے مثالی عالم تھے۔بے شمار حوالے اور ہزاروں عربی شعر از بر تھے۔آواز نہایت دلکش اور درد بھری تھی۔طبیعت میں مزاح اور گفتگو میں بڑی شگفتگی تھی۔ہزاروں تقریریں کیں۔سینکڑوں بہائے گئے۔بیسیوں مرتبہ قرآن مجید کا پور ادرس دیا۔شدید گرمیوں میں روزہ رکھ کر ایک پارے کا روزانہ درس دیتے اور وہ بھی اس طرح کہ پہلے ایک پارہ تلاوت فرماتے پھر بلا تامل ترجمہ کرتے پھر تفسیر بیان فرماتے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی آپ کو قریبا ہر سفر میں بطور عالم ساتھ رکھتے۔چنانچہ جب آپ نے پہلی مرتبہ مغریورپ اختیار فرمایا تو حضرت حافظ صاحب موصوف کو بھی حضور کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا اور شام میں آپ کی تقریروں کی دھوم مچ گئی۔نہایت وجیہہ اور صاحب کشف بزرگ تھے۔آپ نے رویا میں دیکھا کہ میرے تمام اعضاء علیحدہ علیحدہ کر دئے گئے ہیں۔خواب میں آپ کو بتایا گیا کہ حضرت مسیح موعود کے مہمانوں کے لئے گوشت تیار کرتا ہے۔پھر دیکھا کہ اعضاء کچھ نقص کے ساتھ متصل کردئے گئے۔اس خواب کی تعبیر آپ نے خودہی یہ فرمائی کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا کوئی ایسا کام سپرد ہو گا جس کی وجہ سے میرے اعضاء میں نمایاں ضعف و اختلال ہو جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آخر عمر میں آپ کو فالج کا حملہ ہوا تاہم اس سے بڑی حد تک آپ کو افاقہ ہو گیا اور کسی قدر چلنے پھرنے کے بھی قابل ہو گئے۔مجلس مشاورت میں تشریف لائے اور تلاوت بھی کی مگر اچانک پیچش اور قے کے عوارض نے خطر ناک صورت اختیار کرلی اور آپ دار فانی سے دار البقاء کی طرف چل ہے آپ کی آخری وصیت یہ تھی کہ " میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں۔" حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ البیع الاول کو چھوڑ کر سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد کوئی حادثہ حضرت حافظ صاحب کی وفات کے حادثہ جیسا نہیں ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے آپ کی وفات پر فرمایا۔