تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 4 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 4

تاریخ احمدیت جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے ایک ایک اینٹ رکھی۔بعد ازاں یہاں تعلیم الاسلام ہائی سکول اور بورڈنگ کی شاندار عمارتیں بنیں۔۱۹۱۳ء میں ہائی سکول اپنی جدید عمارت میں آگیا۔تمیں سال بعد جب ۱۹۴۴ء میں یہ عمارت تعلیم الاسلام کالج کو دیدی گئی تو نور ہسپتال سے متصل ایک دوسری جگہ ہائی سکول تعمیر کیا گیا جو ہجرت ۱۹۴۷ء تک قائم رہا۔ہجرت کے بعد ۶ / نومبر ۱۹۴۷ء کو بمقام چنیوٹ ملک بھگوان داس کی بلڈنگ میں یہ قومی اداره از سر نو جاری کیا گیا اور بارچ ۱۹۵۲ء کے نصف آخر میں اپنی موجودہ مستقل عمارت واقع ربوہ میں منتقل ہوا۔مدرسہ کے اولین ہیڈ ماسٹر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب مقرر ہوئے اور مدرسہ کا اسٹاف ابتدائی اساتذہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نو مسلم، مولوی فضل دین ہیڈ ماسٹر صاحب ساکن کھاریاں ضلع گجرات اور حافظ احمد اللہ صاحب تھے۔ان کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں کئی ایک قابل بزرگ اساتذہ اس کے اسٹاف میں شامل ہوئے۔مثلا ا۔قاضی امیر حسین صاحب ۲۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ۳۔مولوی حکیم عبید اللہ صاحب بسل -۴ شیخ محمد اسمعیل صاحب سرسادی ۵ ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالندھری (سابق مہر سنگھ )۶۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیرے۔منشی غلام محمد صاحب ۸۔مولوی غلام نبی صاحب مصری ۹۴۔ماسٹر عبد العزیز خاں صاحب - 10- پیر منظور محمد صاحب 11 قاضی عبد الحق صاحب ۱۲۔منشی سکندر علی صاحب کلانوبری - ram جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مدرسہ کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب تھے۔مگر تھوڑے عرصے کے بعد جب مدرسہ پرائمری سے مڈل تک ہو گیا تو حضرت شیخ صاحب پرائمری حصہ کے انچارچ مقرر ہوئے اور مڈل کے عارضی ہیڈ ماسٹر مرزا ایوب بیگ صاحب۔مرزا ایوب بیگ صاحب کے لاہور چلے جانے کے بعد ماسٹر فقیر اللہ صاحب ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔ماسٹر صاحب موصوف نے فروری ۱۸۹۹ء تک مدرسہ کی ہیڈ ماسٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔اس کے بعد دوماہ کے لئے عارضی طور پر راجہ شیر محمد خاں صاحب بی۔اے سپرنٹنڈنٹ محکمہ مال کشمیر اور پھر مئی ۱۸۹۹ ء میں حضرت مولوی شیر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔۱۹۰۳ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو ہیڈ ماسٹر بنایا گیا۔لیکن دو سال کے بعد مفتی صاحب اخبار " البدر" میں چلے گئے اور حضرت مولوی شیر علی صاحب دوبارہ ہیڈ ماسٹر بنا دئیے گئے۔