تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 3 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 3

تاریخ احمدیت جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام کمال الدین صاحب وکیل ہائی کورٹ اور جائنٹ سیکرٹری حضرت مولانا عبد الکریم صاحب مقرر کئے گئے۔خواجہ صاحب چونکہ قادیان میں سکونت نہ رکھتے تھے اس لئے حضرت مولوی صاحب ہی عملاً سیکرٹری کا کام کرتے رہے اور بالاخر آپ ہی سیکرٹری ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب کو عمر بھر مدرسہ کے معاملات سے بہت دلچپسی رہی۔انتظامیہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مدرسہ یکم جنوری ۱۸۹۸ء کو کھول دیا جائے۔افتتاح چونا انتظامیہ کمیٹی کے فیصلہ کی رو سے تو مدرسہ یکم جنوری ۱۸۹۸ء کو ہی کھل جانا چاہیے تھا مگر ونکہ یہ دن جلسہ سالانہ کے تھے جن میں مہمان بکثرت آئے ہوئے تھے اس لئے اس کا افتتاح ۳/ جنوری ۱۸۹۸ء کو ہوا۔حضور علیہ السلام نے اس مدرسہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا۔ہماری غرض مدرسہ کے اجراء سے محض یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کیا جاوے۔مروجہ تعلیم کو اس لئے ساتھ رکھا ہے تاکہ یہ علوم خادم دین ہوں"۔” ہماری یہ غرض نہیں کہ ایف اے یا بی اے پاس کر کے دنیا کی تلاش میں مارے مارے پھریں ہمارے پیش نظر تو یہ امر ہے کہ ایسے لوگ خدمت دین کے لئے زندگی بسر کریں اور اسی لئے مدرسہ کو ضروری سمجھتا ہوں کہ شاید دینی خدمت کے لئے کام آسکے۔" شروع میں مدرسہ کے لئے کوئی مخصوص عمارت موجود نہ تھی اس لئے اس مدرسہ کی عمارت کا آغاز مہمان خانہ میں ہوا لیکن جلد ہی مہمان خانہ کے متصل دو تین کمرے تعمیر کئے گئے ۱۹۰۰۔۱۸۹۹ء میں مزید عمارت بنوائی گئی۔اس کے بعد حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ہجرت کر کے قادیان تشریف لائے تو حضور اقدس نے مدرسہ کا پورا نظم و نسق ان کے سپرد کر دیا۔آپ نے ۲۔دسمبر ۱۹۰۱ء سے ۱۹۰۵ء تک یہ قومی خدمت نہایت محنت اور ذوق و شوق سے سرانجام دی۔مدرسہ کو غروری فرنیچر فراہم کیا۔اس کی پہلی عمارت کو وسعت دی اور ڈھاب پر کر کے بورڈنگ کے لئے کوارٹر بنوائے۔۱۹۰۶ ء میں مدرسہ کی ضروریات بڑھ گئیں تو اس کے متصل اور زمین خرید کی گئی۔لیکن جب یہ زمین بھی کافی ثابت نہ ہوئی تو اس کی انتظامیہ کمیٹی نے قادیان کے شمال میں ایک وسیع قطعہ اراضی تین ہزار میں خرید لیا جس کی بنیادوں کی کھدائی مارچ ۱۹۱۲ء کے آخر میں شروع ہوئی اور ۱۵/ جون ۱۹۱۲ء کو قریباً چھ بجے شام پہلے حضرت خلیفتہ المسیح الاول مولوی نور الدین صاحب نے دعا کر کے بنیادی اینٹ رکھی پھر آپ کے ارشاد کے مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب