تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 165 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 165

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہونا حواشی ا اشتہار واجب الاظهار " مندرجه تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه 9 -۲- از مولف) موجودہ زمانہ کے مشہور فلسفی شاعر ڈاکٹر محمد اقبال صاحب نے حضرت اقدس کے اس نظریہ کو مستعار لیا ہے چنانچہ ان کا شعر ہے۔ہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہور۔:۔ہے ابھی باقی مگر شان جمالی کا ظہور۔اربعین نمبر ۲ صفحه ۲۰۱۸ اظهار مخادعت مسیلمہ قادیانی " صفحہ ۲ مطبوعہ چودھویں صدی "پریس راولپنڈی ۱۹۰۱ء اظهار مخادعت مسیلمہ قادیانی صفحه ۱۴ مطبوعہ چودھویں صدی پریس راولپنڈی ۱۹۰۱ء ایام الصلح " اردو صفحه ۱۳۳ ( طبع اول) اربعین نمبر ۳ صفحه ۲۸( حاشیه) طبع اول البدر ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۴-۳۵ و الحکم فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳ کالم ۱ 9 الحکم ۱۰ اگست ۱۹۰۱ ء صفحه ۳ شهید مرحوم کے چشم دید حالات " ( از سید احمد نور کاہلی) صفحه ۵ ( مطبوعہ قادیان) طبع اول تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو شہید مرحوم کے چشم دید حالات " حصہ اول و دوم "حقیقت الوحی صفحه ۲۰۳٬۲۰۲ رسالہ "دی مسلم ہیرلڈ " (TIHE MUSLIM HERALD) لنڈن بابت ماہ اپریل ۱۹۷۸ء (مضامین رشید احمد خان چودهری و بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن) آپ ابتداء ۱۸۹۷ء میں قادیان تشریف لائے۔۱۹۰۴ء سے آپ نے مستقل طور پر قادیان میں رہائش اختیار کرلی۔حضرت مولوی صاحب نهایت منکسر المزاج اور صاحب کشف بزرگ تھے اور عمر بھر مہمان خانہ کے ایک چھوٹے سے حجرہ میں نہایت صبرد شکر کے ساتھ فقیرانہ رنگ میں اقامت گزیں رہے۔۱۸ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو ساڑھے آٹھ بجے صبیح رحلت فرمائی اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ان کی وفات پر فرمایا کہ آپ کو غصہ کے وقت اپنے نفس پر بہت قابو حاصل تھا بلکہ وہ اس خصوص میں حضرت صاجزادہ عبد اللطیف صاحب سے بھی آگے بڑھے ہوئے تھے۔نیز فرمایا کہ یہ ان کے روحانی تعلق کا ثبوت ہے کہ جب تک میں ڈلیوری سے واپس نہیں آیا ان کی وفات نہیں ہوئی۔پھر آپ نے اپنی ایک رؤیا کا ذکر فرمایا کہ ڈلہوزی میں میں نے دیکھا کہ قادیان میں ایک ایسے شخص کی وفات ہوئی ہے جس سے زمین و آسماں ہل گئے ہیں (الفضل ۲۰۔اکتوبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۲ کالم )) عاقبته المکذبین " صفحه ۲۹ تا ۱۳۱ از قاضی محمد یوسف صاحب) طبع اول و شہید مرحوم کے چشم دید حالات "صفحہ ۱۔( از احمد نور صاحب کابلی) حصہ اول۔۱۵- الحکم دسمبر ۱۹۳۹ ء جوبلی نمبر صفحه ۷۴ البدر ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۳ کالم ۱۷ اخبار بدر ۱۳- دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۶ ولادت ۱۸۵۲ ء وفات ۲۹۔ستمبر ۱۹۳۸ء۔مولانا کے والد بزرگوار مہتاب خاں ( منظر جمال) حضرت امام علی شاہ صاحب سجادہ نشیں اتر چھتر کے خلیفہ مجاز تھے۔مولانا سہل اپنی عمر کے ابتدائی دور میں شیعی خیالات کے قائل ہو گئے تھے اور اس مسلک میں عظیم مقام پیدا کر لیا تھا۔اریج المطالب " آپ کے اسی زمانہ کی تصنیف ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہ کی سوانح میں سند تعلیم کی جاتی ہے۔اس کے بعد آپ کو " سر الخلافہ " کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ احمدیت میں شامل ہو گئے اور زندگی کے آخر دم تک سلسلہ کی علمی خدمات میں مصروف رہے۔