تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 158
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۵۵ جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہونا ہے۔اس فتویٰ پر ہر جگہ جس سختی سے عمل کیا گیا اس کے لئے اس زمانہ کے ایک صاحب مولوی عبد الاحد نامی کا یہ بیان کافی ہے۔لکھتے ہیں۔” طائفہ مرزائیہ امر تسر میں بہت خوار و ذلیل ہوئے جمعہ و جماعات سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے۔۔۔معاملہ و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ و مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔مردے ان کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے۔" " تمام لوگوں کے نزدیک مخذول و مطرور ہوئے۔ملعونين اينما ثقفوا اخذوا کا مصداق بن گئے۔معالمہ وبر تاؤ تم سے روکا گیا۔عورتیں چھینی گئیں۔مردے خراب و بے جنازہ پھینکے گئے مال و آبرو کا نقصان ، روپوں کی آمدنی میں خلل آگیا۔۔۔مردے کے کپڑے یہاں راولپنڈی سے قادیان بھیجے گئے۔۔۔نہ مسجدوں میں جاسکو نہ مجلسوں میں۔" اس نوع کے دلدوز حالات میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت دو سرے فرقہ کے ان ائمہ کے پیچھے جو تکفیر بازی کے شغل میں ملوث نہیں ہوئے کئی سال تک نمازیں ادا کرتی رہی۔جب یہ سلسلہ زیادہ ناگوار شکل اختیار کر گیا تو حضرت اقدس نے حدیث رسول ا وا مامكم منكم " (بخاری) کی روشنی میں باہمی کشمکش ختم کرنے کے لئے یہ ہدایت فرمائی کہ آئندہ کسی مکفر و مکذب و متردد شخص کی اقتداء میں بالکل نماز نہ ادا کی جائے تا مسجدوں میں فتنے کا کوئی احتمال نہ رہے۔یہ ہدایت ۱۸۹۸ء کے لگ بھگ دی گئی تھی اور اس کا علم زیادہ تر انسی احباب تک محدود تھا جو اس وقت تک شدید مظالم کا نشانہ بن چکے تھے۔اس ضمن میں کوئی تحریری ہدایت جماعت کے نام نہیں دی گئی تھی۔لیکن جب غیروں کی سختیاں انتہاء کو پہنچ گئیں اور مکفرین کی سینہ زوری اور خدا ناترسی کا منظر ہر شخص نے بچشم خود دیکھ لیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ۱۹۰۰ ء کے آخر میں تحریری شکل میں بھی یہ ہدایت بذریعہ اشتہار جاری کردی که یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا مترود کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا رہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم۔یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوئی اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔پس تم ایسا ہی کرو۔کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو۔اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک