تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 150
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۴۷ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ حواشی منتخبات التاريخ لد مشق " جزو سوم صفحه ۱۰۳۵ از محمد ادیب آل تقی الدین الحصنی مطبعہ الحدیث دمشق ۱۹۳۴ء ، معجم البدان جلد ۴ صفحہ ۷ (مولفہ امام شہاب الدین ابو عبد اللہ ) طبع اول ۱۹۰۶ء د تمدن عرب " اردو صفحه ۱۱۵ از فرانسیسی محقق ڈاکٹر گستاولی بان) مترجم شمس العلماء سید علی بلگرامی صاحب مطبوعہ اعظم سٹیم پریس حیدر آباد دکن۔"اسلامی انسائیکلو پیڈیا " جلد اول صفحہ ۲۲۱ مرتبه منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار لاہور۔منتخبات التواريخ خالد مشق " جلد سوم صفحه ۱۰۳۵ ملاحظہ ہو ترجمہ "بلاد فلسطین و شام " از جی بی اسٹرینج صفحه ۱۳۲۹ شائع کردہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن)۔منتخبات التواریخ جلد سوم صفحہ ۱۰۳۶ بیج الکرامہ صفحہ ۱۳۸ میں حضرت امام سیوطی کا یہ دعوئی لکھا ہوا موجود ہے کہ "انی المجدد " ( میں مجدد ہوں) مصر کے باشندے تھے۔آپ کی تصنیفات کی تعداد چار سو کے قریب ہے جن میں تفسیر در منشور اور جلائین کا آخری حصہ بہت مشہور ہے۔۱۵۰۵ء میں وفات پائی ( قاموس المشاہیر)۔حاشیه ابن ماجہ مصری صفحه ۲۶۵( مطبوعه ۵۱۳۱۳) ۷ اشتہار ۱۸- مئی ۱۹۰۰ء ( مشمولہ خطبہ الہامیہ) نزول عیسی والی حدیث مکاشفات میں سے ہے اور مکاشفات ہمیشہ مجازات و استعارات پر مبنی ہوتے اور کئی رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں لہذا حضرت اقدس نے اس مینارہ کی تحریک ہونے سے قبل اس حدیث کی بناء پر پیش گوئی فرمائی کہ حضور یا حضور کا کوئی خلیفہ و مشق کی طرف سفر کرے گا تمامتہ البشرئی صفحہ ۲۷ مطبوعہ جنوری (۱۸۹۴ء) چنانچہ حضور کے جانشین سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی ۱۹۲۴ء کے سفریورپ کے دوران دمشق بھی کھرے اور منارہ بیضاء کے مشرقی طرف قیام پذیر ہوئے۔اس کے بعد جب آپ نے دوسری مرتبہ سفر یورپ اختیار فرمایا تو آپ بذریعہ طیارہ دمشق میں نزول فرما ہوئے اور حدیث نبوی ظاہری لحاظ سے بھی کمال صفائی سے پوری ہو گئی۔فالحمد لله علی ذالک۔- تبلیغ رسالت جلد 4 صفحه ۳۳-۴۹( ضمیمہ خطبہ الہامیہ )۔-1° -11 الفضل ۲۶ جنوری ۱۹۲۰ صفحه ۸ منشی صاحب نے تو اپنے گھر کا تمام سامان فروخت کر کے تین سو روپیہ پیش کر دیا جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ شادی خاں صاحب سیالکوٹی نے بھی وہی نمونہ دکھایا ہے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دکھایا تھا کہ سوائے خدا کے اپنے گھر میں کچھ نہیں چھوڑا۔جب میاں شادی خاں نے یہ سنا تو گھر میں جو چار پائیاں تھیں ان کو بھی فروخت کرڈالا اور ان کی رقم بھی حضرت کے حضور پیش کر دی۔(احکم ۲۶۔جنوری ۱۹۲۰ء صفحہ (۸) ایضاً "سیرت احمد طبع اول صفحه ۱۴۳ ولفہ حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری) تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۵۳ - ۶۴ ا حکم ۱۴ فروری ۱۹۱۸ء صفحه ۱۲ و ۲۸ فروری ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۳ ۱۳ الحکم ۲۸۔فروری ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵ کالم ۳ -10 الحکم ۱۴۔فروری ۱۹۱۸ء صفحہ ۱۱ ۱۲ - الحکم ۱۴/۲۱ جنوری ۱۹۴۰ء صفحہ ۱۴ کالم اور اصحاب احمد " جلد ششم صفحہ ۱۳۱ روایت حضرت قاضی عبد الرحیم صاحب (مولفه ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان) الحکم ۲۸ فروری ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵ کالم ۳ ۱۸ مستری فضل الدین صاحب معمار کا بیان ہے کہ اس اینٹ کی نچلی طرف کچھ لکھا ہوا تھا پھر لکھا ہوا حصہ حضور نے پہنچے رکھ کر بنیاد