تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 2 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 2

تاریخ احمدیت جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام اور وہ یہ ہے کہ ایک مدرسہ قائم ہو کر بچوں کی تعلیم میں ایسی کتابیں ضروری طور پر لازمی ٹھہرائی جائیں جن کے پڑھنے سے ان کو پتہ لگے کہ اسلام کیا شے ہے اور کیا کیا خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے اور جن لوگوں نے اسلام پر حملے کئے ہیں وہ حملے کیسے خیانت اور جھوٹ اور بے ایمانی سے بھرے ہوئے ہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ایسی کتابیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے میں تالیف کروں گا بچوں کو پڑھائی گئیں تو اسلام کی خوبی آفتاب کی طرح چمک اٹھے گی۔اور دوسرے مذاہب کے بطلان کا نقشہ ایسے طور سے دکھایا جائے گا جس سے ان کا باطل ہو نا کھل جائے گا۔۔۔اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم کے ذریعہ سے اسلامی روشنی کو ملک میں پھیلاؤں۔اور جس طریق سے میں اس خدمت کو سرانجام دوں گا میرے نزدیک دو سروں سے یہ کام ہرگز نہیں ہو سکے گا۔ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اس طوفان ضلالت میں اسلامی ذریت کو غیر مذاہب کے وساوس سے بچانے کے لئے اس ارادہ میں میری مدد کرے۔سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بالفعل قادیان میں ایک مڈل سکول قائم کیا جائے۔" حضور نے اس امر کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ایک دوسرے موقع پر فرمایا کہ ”دیکھو تمہاری ہمسایہ قوموں یعنی آریوں نے کس قدر حیثیت تعلیم کے لئے بنائی۔کئی لاکھ سے زیادہ روپیہ جمع کر لیا۔کالج کی عالی شان عمارت اور سامان بھی پیدا کیا۔اگر مسلمان پورے طور پر اپنے بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہ کریں تو میری بات سن رکھیں کہ ایک وقت ان کے ہاتھ سے بچے بھی جاتے رہیں گے۔۔۔۔۔ہر ایک شریف قوم کے بچوں کا عیسائیوں کے پھندے میں پھنس جانا اور مسلمانوں حتی کہ غوث و قطب کہلانے والوں کی اولاد اور سادات کے فرزندوں کا رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنا دیکھ چکے ہو۔ان صحیح النسب سیدوں کی اولاد جو اپنا سلسلہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچاتے ہیں ہم نے کر چین (عیسائی) دیکھی ہے جو بانئے اسلام کی نسبت قسم قسم کے الزام (نعوذ باللہ) لگاتے ہیں۔ایسی حالت میں بھی اگر کوئی مسلمان اپنے دین اور اپنے نبی کے لئے غیرت نہیں رکھتا تو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا۔؟" انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل اس اہم تحریک کو عملی جامہ پہنانے عملہ مہیا کرنے اور مدرسہ کے انتظامی امور پر سوچنے اور قواعد مرتب کرنے کی غرض سے حضرت اقدس کی ہدایت کے مطابق ایک سب کمیٹی مقرر ہوئی جس کا پہلا اجلاس ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۷ء کو منعقد ہوا۔اس اجلاس میں مدرسہ کے لئے ایک انتظامیہ کمیٹی مقرر کی گئی جس کے پریذیڈنٹ حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین صاب بھیروی، محاسب حضرت میر ناصر نواب صاحب ، سیکرٹری خواجہ