تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 142
پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ ایک ایسا امر ہے جو اب تک امت کے بچے پیروؤں کے ذریعہ سے دریا کی طرح موجیں مار رہا ہے۔بجز اسلام وہ مذہب کہاں اور کدھر ہے جو یہ خصلت اور طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور وہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی برکات اور نشانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔۔۔اور میں صرف یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا تعالی کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالٰی سے یہ نعمت پائے گا مگر یاد رکھو کہ تمام مخالفوں کے لئے یہ دروازہ بند ہے۔اور اگر دروازہ بند نہیں ہے تو کوئی آسمانی نشانوں میں مجھ سے مقابلہ کرے۔اور یاد رکھیں کہ ہر گز نہیں کر سکیں گے۔پس یہ اسلامی حقیقت اور میری حقانیت کی ایک زندہ دلیل ہے۔" اسی قوت نشان نمائی کی آزمائش کے لئے حضور نے اسے اشتہاروں میں دو نہایت آسان صورتیں پیش فرما ئیں۔پہلی صورت اسلام کی سچائی اور اپنی سچائی کی زندہ دلیل یعنی قوت نشان نمائی کے امتحان کے لئے پہلی صورت یہ پیش کی کہ علمائے وقت میں سے کم از کم چالیس نامی جید اور فاضل علماء جیسے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی (شیخ الکل) مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی، مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور پیر مہر علی شاہ صاحب پچاس معزز مسلمانوں کے دستخط سے اخبار میں یہ اقرار نامہ شائع کر دیں کہ اگر مرزا صاحب کی طرف سے کوئی فوق العادت نشان ظاہر ہو تو ہم حضرت ذو الجلال سے ڈر کر مخالفت چھوڑ دیں گے اور بیعت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالی ضروری کوئی جدید نشان ظاہر کرے گا۔یہ نہیں ہو گا کہ وہ کوئی پچاس ساٹھ سال قرر کر دے بلکہ کوئی معمولی مدت ہو گی جو عدالت سے مقدمات یا امور تجارت میں بھی اہل غرض اس کو اپنے لئے منظور کر لیتے ہیں۔دوسری صورت اپنے دعوئی کی آزمائش کی دوسری صورت آپ نے یہ رکھی کہ اگر یہ طریق ان کو منظور نہ ہو اور ایسا اقرار وہ اپنی عظمت و شاں کے منافی تصویر فرما ئیں تو " آپ لوگ محض خدا تعالٰی سے خوف کر کے اور اس امت محمدیہ کے حال پر رحم کرتے ہوئے بٹالہ یا امر تسر یا لاہور میں ایک جلسہ کریں اور اس میں جہاں تک ممکن ہو اور جس قدر ہو سکے معزز علماء اور دنیا دار جمع ہوں اور میں بھی اپنی جماعت کے ساتھ حاضر ہو جاؤں۔تب وہ سب یہ دعا کریں کہ یا الہی اگر تو جانتا ہے کہ یہ شخص مفتری ہے اور تیری طرف سے نہیں ہے اور نہ مسیح موعود ہے اور نہ مہدی ہے