تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 140 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 140

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۳۷ پیر مہر علی شاہ صاحب کو دعوت مقابلہ آپ حق کے فیصلہ کے واسطے بہت جلد اس کا احسن انتظام کر کے لاہور میں تشریف لاویں گے۔" جو وصیت پیر صاحب نے اپنے مریدوں کو کی تھی وہ بھلا خود اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رجری کیسے وصول کر سکتے تھے۔چنانچہ انہوں نے اس دفعہ بھی رجسٹری لینے سے صاف انکار کر دیا اور اس طرح سفر و قیام کے اخراجات کی پیشکش کے باوجود نہ ان کو اور نہ ان کے ہم مشرب علماء کرام کو حضرت اقدس کے مطالبہ کی تعمیل میں وہ حدیث پیش کرنے کی جرات ہو سکی جس میں حضرت مسیح کے مجید عصری آسمان پر جانا اور پھر آنان کو ر ہو نیز وہ تفسیر نویسی اور بالمشافہ تقریر کے بھی مرد میدان نہ بن سکے۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے اتمام حجت پیر صاحب کے لاہور سے جانے کے بعد ان کے عقیدت مندوں کی طرف سے اشتہاروں کا ایک سلسلہ جاری کر دیا گیا جس میں لکھا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب جیسے مقدس انسان بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے صعوبت سفر اٹھا کر لاہور پہنچے مگر مرزا صاحب اس بات پر اطلاع پا کر کہ وہ بزرگ نابغہ زماں مجہاں دوراں اور علم و معارف قرآن میں لاثانی روزگار ہیں اپنے گھر کے کسی گوشہ میں چھپ گئے ورنہ حضرت پیر صاحب کی طرف سے معارف قرآنی بیان کرنے اور زبان عربی کی فصاحت دکھلانے میں بڑا نشان ظاہر ہوتا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حق پوشی کا یہ رنگ دیکھا تو اللہ تعالی کی تحریک سے ۱۵۔دسمبر ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ سے پیر مہر علی شاہ صاحب کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہم دونوں ستر دن میں اپنی اپنی جگہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورہ فاتحہ کی تفسیر شائع کریں۔نیز اعلان فرمایا کہ اگر تین اہل علم جو ادیب اور اہل زباں ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں فیصلہ دیں کہ پیر صاحب کی تغیر فصاحت و معارف کے اعتبار سے آپ کی تفسیر پر فائق ہے تو حضور بلا توقف پانچ سو روپیہ نقد پیر صاحب کی نذر کر دیں گے۔اس اعلان کے بعد حضور نے پیر صاحب کو کھلی اجازت دی کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی اور محمد حسن صاحب بھیں وغیرہ کو بلالیں بلکہ وہ چار عرب ادیبوں کی بھی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔اور بالاخر لکھا کہ اگر میعاد مجوزه تک یعنی ۱۵- دسمبر ۱۹۰۰ ء سے ۲۵ - فروری ۱۹۰۱ء تک جو ستر دن میں ہے فریقین میں سے کوئی فریق تغیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گزر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔"