تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 124
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۲۱ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد خلافت ثانیہ میں مینار کی تعمیل اس ضمنی مگر اہم حقیقت کی نشان دہی کرنے کے بعد اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف آتے ہیں۔حضور کی وفات کے بعد خلافت اوٹی کے دور میں بھی اس پر کوئی اضافہ نہ ہو سکا لیکن جب خلافت ثانیہ کا عہد آیا تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جنہیں الہام الہی میں نور قرار دیا گیا تھا اور جن کے ہاتھوں ازل سے مسیح محمدی کے نوروں کی ضیاء پاشی مقدر تھی۔خلافت ثانیہ کے پہلے ہی سال ۲۷۔نومبر ۱۹۱۴ء کو منارہ کی نا تمام عمارت پر اپنے دست مبارک سے اینٹ رکھ کر اس کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کروا دیا۔II اس دفعہ تعمیر کی نگرانی کے فرائض قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی نے سرانجام دئے۔اس کے لئے اجمیر شریف سے بہترین سنگ مرمر مہیا کیا گیا اور آخر رسول خدا کے دلائل نبوت کا یہ زبر دست نشان دسمبر ۱۹۱۵ء 2 میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔یہ خوش نما اور دلکش اور شاندار مینار (جو فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے ) ایک سو پانچ فٹ اونچا ہے۔اس کی منزلیں تین گنبد ایک اور سیڑھیاں بانوے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیرینہ خواہش کے مطابق اس پر ۲۱۱ مخلصین چندہ دہندگان کے نام درج ہیں جنہوں نے منارہ کے لئے ایک ایک سورد پسیہ چندہ دیا۔اس پر کلاک گھڑیاں بھی نصب ہیں اور بجلی کے قمقمے بھی آویزاں ہیں جو میلوں تک کے حلقہ کو روشنی پہنچاتے ہیں (اولین بنیاد کے اخراجات چھوڑ کر) اس کی تعمیر پر پانچ ہزار نو سو تریسٹھ روپے خرچ ہوئے (گھڑیال کٹرے، بجلی کا سامان نیز چندہ دہندگان کی کتابت کے اخراجات اس سے علاوہ ہیں) Te