تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 93
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۹۰ اسلام کی پے در پے فتوحات بشپ جارج الفریڈ لی فرائے کا فرار اور اسلام کی پے در پے فتوحات ۱۸۹۹ء میں لارڈ کرزن ہندوستان کے وائسرائے بنا کر بھیجے گئے اور ساتھ ہی پنجاب کے عیسائی نظام میں یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی کہ لارڈ کرزن کے چہیتے اور دلی کے مشہور پر جوش مسیحی پادری جارج الفریڈ لیفرائے ۳ (۶۱۸۵۴ - ۱۹۱۹ء) کو لاہور کا بشپ بنا دیا گیا۔یہ صاحب اپنے مذہب کی تبلیغ میں جارحانہ پالیسی کے قائل اور عبرانی ، فارسی اور اردو مینوں زبانوں کے فاضل تھے اور عیسائی حلقوں میں خاص عظمت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ولی کے مشہور نابینا مولوی احمد مسیح انہی کی کوششوں سے عیسائی ہوئے اور پادری اور مسیحی کہلائے۔مباحثات کا شوق انہیں پہلے ہی جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا اس لئے انہوں نے بشپ بنتے ہی اپنے انگریز بھائیوں پر یہ بات واضح کی کہ خداوند یسوع نے ہندوستان کو بطور امانت سپرد کیا ہے اس لئے ہمیں تندہی سے تبلیغ کرنی چاہیے۔I نیز بڑے وسیع پیمانہ پر عیسائیت کی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔اس پروگرام کے تحت ۱۸ / مئی ۱۹۰۰ء کو انہوں نے معصوم نبی" کے موضوع پر ایک تقریر کی جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ حضرت محمد رسول اللہ ا ) کے متعلق قرآن مجید میں ذنب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ گناہ گار تھے۔آخر میں انہوں نے مسلمانوں کو نج دیا کہ اگر انہیں کوئی اعتراض ہے تو میدان میں آئیں اور سوال کریں۔اس مجمع میں حضرت مسیح موعود کے مشہور مخلص مرید حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی موجود تھے۔باقی مسلمان تولیفرائے کے دلائل سن کر دہشت زدہ ہو گئے وہ بولنے کی جرات کیسے کرتے مگر مفتی صاحب جو کا سر صلیب کے غلام تھے جوش غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور تقریر کے ایک ایک اعتراض کا اس خوبی سے جواب دیا کہ ان کے بھی دعاوی کی دھجیاں بکھر گئیں مثلاً انہوں نے کہا کہ مسیح کی عصمت پر لو قایا مرقس کے حوالے دینا کوئی سود مند بات نہیں ہو سکتی بہتر یہ ہے کہ خود مسیح کے اپنے منہ کے الفاظ دیکھے