تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 78
تاریخ احمدیت۔جلدا مقدمات کی پیروی جس کے چہرہ مہرہ ، طرز گفتگو اور کردار سے روحانیت کا نور برستا تھا جو ایک اجنبی انسان کو بھی مبہوت کر دیا کرتا تھا۔چنانچہ ڈلہوزی ہی کے سفر کا ایک واقعہ ہے کہ آپ ایک مقدمے کے سلسلہ میں پہاڑ پریکہ میں بیٹھے سفر کر رہے تھے کہ راستہ میں بارش آگئی۔آپ اپنے ہم سفر ساتھی سمیت یکہ سے اترے اور ایک پہاڑی آدمی کے مکان کی طرف گئے جو راستہ کے پاس تھا۔آپ کے ساتھی نے آگے بڑھ کر مالک مکان سے اندر آنے کی اجازت چاہی مگر اس نے روکا۔اس پر ان کی باہم تکرار ہو گئی اور مالک مکان تیز ہو کر گالیوں پر اتر آیا۔حضرت صاحب یہ تکرار سن کر آگے بڑھے۔جو نہی آپ کی اور مالک مکان کی آنکھیں ملیں تو پیشتر اس کے کہ آپ کچھ فرماتے اس نے اپنا سر نیچے ڈال لیا اور کہا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ ”میری ایک جوان لڑکی ہے اس لئے میں اجنبی آدمی کو گھر میں نہیں سمجھنے دیتا مگر آپ بے شک اندر آجائیں"۔مقدمات خواہ کتنے پیچیدہ اہم اور آپ کی ذات یا خاندان کے لئے دور رس نتائج کے حامل ہوتے آپ نماز کی ادائیگی کو ہر صورت میں مقدم رکھتے تھے۔چنانچہ آپ کا ریکارڈ ہے کہ آپ نے ان مقدمات کے دوران میں کبھی کوئی نماز قضاء نہیں ہونے دی۔عین کچہری میں نماز کا وقت آتا تو اس کمال محویت اور ذوق شوق سے مصروف نماز ہو جاتے کہ گویا آپ صرف نماز پڑھنے کے لئے آئے ہیں کوئی اور کام آپ کے مد نظر نہیں ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا کہ آپ خد اتعالیٰ کے حضور کھڑے عجز و نیاز کر رہے ہوتے اور مقدمہ میں طلبی ہو جاتی مگر آپ کے استغراق توکل علی اللہ اور حضور قلب کا یہ عالم تھا کہ جب تک مولائے حقیقی کے آستانہ پر جی بھر کر الحاح وزاری نہ کر لیتے اس کے دربار سے واپسی کا خیال تک نہ لاتے۔چنانچہ خود فرماتے ہیں: میں بٹالہ ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔نماز کا وقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا فریق ثانی پیش ہو گیا اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اٹھانا چاہا اور بہت زور اس بات پر دیا۔مگر عدالت نے پروانہ کی اور مقدمہ اس رعدالت نے پروانہ کی اور مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔میں جب نماز سے فارغ ہو کر گیا تو مجھے خیال تھا کہ شاید حاکم نے قانونی طور پر میری غیر حاضری کو دیکھا ہو۔مگر جب میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ میں تو نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں تو آپ کو ڈگری دے چکا ہوں"۔m عدالت سے غیر حاضری کے باوجود آپ کے حق میں فیصلہ ہو جانا ایک بھاری الہی نشان تھا جو آپ کے کمال درجہ انقطاع دابتال کے نتیجہ میں نمودار ہوا۔1