تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 74 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 74

تاریخ احمدیت۔جلدا ۷۳ مقدمات کی پیروی دیا اور حضور کو مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور بھیجا۔آپ کے ہمراہ دو گواہ بھی تھے حضرت اقدس جب نہر سے گذر کر پتھنا نوالہ گاؤں پہنچے تو راستے میں ذرا ستانے کے لئے بیٹھ گئے اور ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔ابا جان یو نہی زبر دستی کرتے ہیں درخت کھیتی کی طرح ہوتے ہیں یہ غریب لوگ اگر کاٹ لیا کریں تو کیا حرج ہے۔بہر حال میں تو عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مطلقاً یہ ہمارے ہی ہیں۔ہاں ہمارا حصہ ہو سکتے ہیں۔موروثیوں کو بھی آپ پر بے حد اعتماد تھا۔چنانچہ جب مجسٹریٹ نے موروثیوں سے اصل معاملہ پوچھا تو انہوں نے بلا تامل جواب دیا کہ خود مرزا صاحب سے دریافت کرلیں۔چنانچہ مجسٹریٹ نے حضور سے پوچھا حضور نے فرمایا کہ میرے نزدیک درخت کھیتی کی طرح ہیں جس طرح کھیتی میں ہمارا حصہ ہے۔ویسے ہی درختوں میں بھی ہے۔چنانچہ آپ کے اس بیان پر مجسٹریٹ نے موروثیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔اس کے بعد جب حضور واپس قادیان تشریف لائے تو حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب نے آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے ایک ساتھی سے پوچھا کہ کیا فیصلہ ہوا ہے۔اس نے کہا کہ میں تو باہر تھا مرزا صاحب اندر گئے تھے ان سے معلوم ہو گا۔اس پر حضرت صاحب کو بلایا گیا۔حضور نے سارا واقعہ بلا کم و کاست بیان کر دیا جسے سن کر آپ کے والد بزرگوار سخت برہم ہوئے اور ملاں ماں " کہہ کر کوسنے لگے اور کہا کہ گھر سے نکل جاؤ اور گھر والوں سے تاکید کہا کہ ان کو کھانا ہرگز نہ دو۔حضور دو تین دن تو قادیان ہی میں رہے اور آپ کی والدہ صاحبہ محترمہ آپ کو کھانا بھیجواتی رہیں لیکن بعد کو آپ کے والد صاحب کی مزید ناراضگی کی وجہ سے قادیان سے بٹالہ چلے گئے جہاں کوئی دو ماہ تک " پناہ گزین " رہنا پڑا۔اور پھر بیمار ہونے پر والد صاحب مرحوم نے حضور کو واپس بلالیا۔دو اور حیرت انگیز مثالیں یہاں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلم سے دو اور مثالیں بھی درج کرنا ضروری ہیں جو اگر چہ براہ راست اس زمانہ سے تعلق نہیں رکھتیں۔مگر آپ کے مقدمات میں آپ کے معمول پر گہری روشنی ڈالتی ہیں۔حضور آئینہ کمالات اسلام " میں تحریر فرماتے ہیں: ”میرے بیٹے سلطان احمد نے ایک ہندو پر بدیں بنیاد نالش کی کہ اس نے ہماری زمین پر مکان بنالیا ہے اور مسماری مکان کا دعویٰ تھا اور ترتیب مقدمہ میں ایک امر خلاف واقعہ تھا۔جس کے ثبوت سے وہ مقدمہ ڈسمس ہونے کے لائق ٹھرتا تھا اور مقدمہ کے ڈسمس ہونے کی حالت میں نہ صرف سلطان احمد کو بلکہ مجھ کو بھی نقصان تلف ملکیت اٹھانا پڑ تب فریق مخالف نے موقعہ پا کر میری گواہی لکھا دی اور میں بٹالہ میں گیا اور بابو فتح دین صاحب سب پوسٹ ماسٹر کے مکان پر جو تحصیل بٹالہ کے پاس ہے جا ٹھرا۔اور مقدمہ ایک ہندو منصف کے پاس تھا جس کا اب نام یاد نہیں رہا مگر ایک پاؤں سے وہ لنگڑا بھی