تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 71 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 71

تاریخ احمدیت جلدا مقدمات کی پیروی ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ ہجرت تک بدستور قائم رہے۔البتہ حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب کے انتقال کے بعد مرزا غلام قادر صاحب کے زمانے میں قادیان کی جائیداد کا ایک بڑا حصہ مرزا اعظم بیگ صاحب لاہوری کے خاندان کی طرف منتقل ہو گیا جو بالا خر پینتیس برس کی کشمکش کے بعد آپ ہی کے خاندان کی طرف واپس آ گیا۔مقدمات شروع ہوئے تو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم نے اپنے بیٹوں کو بھی اس میں شامل کرنا چاہا۔حضرت اقدس کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم اپنے دنیا دارانہ رنگ کی وجہ سے مقدمات کی پیروی میں گہری دلچسپی لینے لگے مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فطری طور پر ان امور سے کوئی علاقہ ہی نہ تھا۔آپ کے والد اور بڑے بھائی کو جس قدر انہماک اور شغف ان دنیاوی مشاغل میں تھا آپ اس قدر ان سے متنفر تھے اور یہ جاننے کے باوجود متنفر تھے کہ ان مقدمات کے نتیجے میں اگر کامیابی ہوئی تو بالا خر خود آپ ایک بہت بڑی جائیداد پر قابض ہوں گے تاہم ضروری تھا کہ جب خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے آپ اپنی زندگی وقف کئے ہوئے تھے تو اس کی ہدایت کے مطابق اپنے والد کے حکم کی بھی تعمیل کریں خواہ آپ کی طبیعت اس سے کس درجہ کراہت رکھتی ہو۔چنانچہ آپ کو مقدمات سے (جو آپ کے لئے ایک ابتلائے عظیم اور آزمائش کا ایک سنگین مرحلہ تھے) کم و بیش سترہ سال الجھنا پڑا۔حضور فرماتے ہیں: ” میرے والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجداد کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے انہوں نے انہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا مجھے افسوس ہے کہ بہت سارقت عزیز میرا ان بے ہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ بنا رہتا تھا۔ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رو بہ خلق بنادیں اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی۔ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیان میں آنا چاہا۔میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئے۔مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جاسکا۔پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا۔اور وہ چاہتے تھے کہ میں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں جو مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا۔مگر تاہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا