تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 70 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 70

تاریخ احمدیت۔جلدا 49 مقدمات کی پیروی باب پنجم مقدمات کی پیروی اور دنیاوی علائق میں راست گفتاری، منکسر المزاجی اور تعلق باللہ (۱۸۵۴ تا ۱۸۷۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی عمر کی پندرھویں منزل میں ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ ملتان ، چیلیانوالہ اور گجرات کی فیصلہ کن جنگوں کے بعد سکھ حکومت کو شکست فاش ہوئی اور ۲۹- مارچ ۱۸۴۹ء کو پنجاب کا علاقہ بھی انگریزی حدود مملکت میں شامل کر لیا گیا۔سکھ مہاراجہ دلیپ سنگھ کو 50 ہزار پاؤنڈ مینشن دے کر انگلستان روانہ کر دیا گیا اور پنجاب کے ان رؤسا کی جاگیریں ضبط کرلی گئیں جنہوں نے انتقال حکومت کے وقت غیر ملکی حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔جیسا کہ ابتداء میں ذکر آچکا ہے ان رؤساء میں چونکہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب اور آپ کے بھائی بھی تھے اس لئے ان کی جاگیر بھی جو قادیان کی مثالی ریاست کے آثار باقیہ سے تھی ضبط کرلی گئی اور اشک شوئی کے طور پر فقط سات سو روپے کی سالانہ پنشن انہیں دی جانی منظور کی گئی جو ظاہر ہے کہ ان کے گذشتہ شاہانہ ٹھاٹ بات کے لحاظ سے چنداں کوئی حیثیت نہ رکھتی تھی۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کو قادیان کی بستی سے اپنے بزرگوں کی مقدس یادگار ہونے کی وجہ سے نہایت درجہ عقیدت تھی اور آپ اکثر اس کا اظہار فرماتے اور اکثر کہتے کہ قادیان کی ملکیت مجھے ایک ریاست سے اچھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت انگریزی کی طرف سے بے دخلی کے اعلان پر آپ نے انگریزی عدالتوں تک پہنچنے کا فیصلہ کر کے مقدمات کا ایک وسیع سلسلہ شروع کر دیا۔جس میں آپ نے کشمیر میں ملازمت اور بعد کے عرصہ میں جمع کی ہوئی ستر ہزار کے قریب رقم پانی کی طرح بہادی۔حالانکہ اس زمانے میں اس قدر مصارف سے سو گنے بڑی جائیداد از سر نو خرید کی جا سکتی تھی۔بایں ہمہ بڑی زبردست جدوجہد کے بعد انہیں بمشکل قادیان کی زمین کے ایک حصہ پر عمل دخل ملا۔اور اس کے ماحول میں بھینی ، نگل اور کھارا کے دیہات کی ملکیت کے رسمی حقوق واپسی ہوئے جو