تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 64
تاریخ احمدیت جلدا ури شادی انتطاع الی اللہ اعتراضوں پر غور کرتا رہا ہوں میں نے اپنی جگہ ان اعتراضوں کو جمع کیا ہے جو عیسائی آنحضرت اللہ پر کرتے ہیں ان کی تعداد تین ہزار کے قریب پہنچی ہوئی ہے"۔بالفاظ دیگر شادی کی مسرتوں میں رسول اللہ ﷺ کے دین کی مظلومیت کا غم تازہ ہو گیا جس طرح حضرت عائشہ کے سامنے فتح شام کی خوشی میں وہاں کے میدے کی روٹیاں پیش کی گئیں تو آپ کی آنکھیں اس غم سے ڈبڈبا آئیں کہ اگر رسول اللہ ﷺے اس وقت زندہ ہوتے تو میں یہ روٹیاں آپ کی خدمت میں پیش کرتی۔بہرحال آپ نے شادی کے ابتدائی ایام میں ہی اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ آپ آنحضرت ﷺ اور حضور کی پیش کردہ تعلیمات کے پاک اور منور چہرے سے دشمنوں کے پر دے چاک کر کے رہیں گے اور دنیا کو اس مقدس وجود کی حقیقی شکل پیش کئے بغیر چین نہ لیں گے۔یاد رہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جبکہ چرچ مشنری سوسائٹی لنڈن نے ہندوستان میں اپنے کارکنوں کو خفیہ ہدایات جاری کیں اور لکھا کہ ”ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ایک نجات دہندہ کی آمد کی خوشخبری عیسائی حکومت کے شروع ہونے کے ساتھ ہی لوگوں میں پھیلائی جائے تو عیسائیت کے حق میں ایک زبر دست اور ترقی پذیر تحریک ہوئی "- آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس سے شروع ہی سے آپ کو اس درجہ والہانہ عشق تھا کہ حضور کے متعلق ذراسی بات بھی آپ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اور اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی شان مبارک میں ذراسی بات کہتا تو آپ کا چہرہ مبارک یکا یک سرخ ہو جاتا اور آنکھیں متغیر ہو جاتیں۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا بیان ہے کہ حضرت صاحب (یعنی آنحضرت ) سے تو بس والد صاحب کو عشق تھا۔ایسا عشق میں نے کبھی کسی شخص میں نہیں دیکھا"۔آپ اپنے پہلو میں اسلام اور رسول خدا ﷺ کا جو غم چھپائے عالم کتمان سے عالم ظہور میں آئے تھے وہ ہر لمحہ سیل رواں کی طرح بڑھتا ہی گیا اور پھر جوں جوں عمر میں پختگی اور تجربہ میں وسعت پیدا ہوتی گئی آپ اسلام کی حالت دیکھ کر ہر وقت مضطرب اور بے چین رہنے لگے۔چنانچہ حضرت مولوی فتح الدین صاحب دھرم کوئی حضور کے ابتدائی زمانہ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ : میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور اکثر حاضر ہوا کر تا تھا اور کئی مرتبہ حضور کے پاس ہی رات کو بھی قیام کیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آدھی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بے قراری سے تڑپ رہے ہیں اور ایک کو نہ سے دوسرے کو نہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدت درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے۔میں اس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اس وقت میں