تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 55
تاریخ احمدیت جلدا ۵۴ ولادت بچین اور تعلیم ہی نہیں رؤساء بھی علم کے نور سے محروم تھے۔چنانچہ یہ بات مشہور ہے کہ خطوط اکثر مدت تک یونسی بغیر پڑھے رکھے رہتے اور ایک عرصہ کی محنت مشقت اور تلاش کے بعد ان کے مضمون سے آگاہی ہو سکتی۔لیکن چونکہ اللہ تعالٰی نے آپ سے اصلاح خلق کا ایک بہت بڑا کام لیتا تھا اس لئے اس نے آپ کے والد بزرگوار کے دل میں آپ کی تعلیم کا خاص شوق پیدا کر دیا۔چنانچہ انہوں نے دنیوی تفکرات اور اقتصادی مشکلات کے باوجود مناسب حال ابتدائی تعلیم دلانے میں گہری دلچسپی لی چنانچہ حضور اپنے ذاتی سوانح میں لکھتے ہیں: بچپن کے زمانے میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھا ئیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خوان مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگ آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے۔اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے۔اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا۔اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلے استاد فضل الہی صاحب قادیان کے باشندے اور خفی المذہب تھے۔دوسرے استاد مولوی فضل احمد صاحب فیروزوالہ ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے اور اہلحدیث تھے۔مولوی مبارک علی صاحب جو ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہوئے اور پھر غیر مبایعین کی رو میں بہہ گئے ، آپ ہی کے بیٹے تھے۔اور تیسرے استاد مولوی گل علی شاہ صاحب بٹالہ کے رہنے والے اور مذ ہبا شیعہ تھے۔m حضور کے زمانہ طالب علمی میں قادیان کا وہ کچا دیوان خانہ جس میں بعد کو حضرت نواب محمد علی خان صاحب ہی کے مکانات تعمیر ہوئے پرائیویٹ درسگاہ تھی جہاں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی بدولت نہ صرف آپ کے فرزندی اساتذہ سے تعلیم حاصل کرتے تھے بلکہ گاؤں کے دوسرے بچوں کو بھی استفادہ کی کھلی اجازت HA