تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 54 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 54

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۳ ولادت بچین اور تعلیم نہیں آسمانی (ہے) یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے " حضرت اقدس کو شروع سے نماز کے ساتھ گہرا تعلق اور ایک فطری لگاؤ تھا جو عمر کے آخر تک گویا ایک نشہ کی صورت میں آپ کے دل و دماغ پر طاری رہی۔تحریک احمدیت کے پہلے مورخ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے آپ کے ابتدائی سوانح میں یہ عیب واقعہ درج کیا ہے کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ اپنی ہم سن لڑکی سے (جو بعد کو آپ سے بیاہی گئی) فرمایا کرتے تھے کہ ” نا مرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے "۔یہ فقرہ بظاہر نہایت مختصر ہے مگر اس سے عشق الہی کی ان لہروں کا پتہ چلتا ہے جو ما فوق العادت رنگ میں شروع سے آپ کے وجود پر نازل ہو ، رہی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اپنی فطری رجحانات کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک مقام پر لکھا ہے کہ : المَسْجِدُ مَكَانِى وَالصَّالِحُونَ اِخْوَانِي وَذِكرُ اللَّهِ مَالِي وَ خَلْقُ اللهِ عَمَالِي فرماتے ہیں کہ ادائل ہی سے مسجد میرا امکان صالحین میرے بھائی یاد الہی میری دولت ہے اور مخلوق خدا میرا عیال اور خاندان ہے۔حضور کی یہ پاکیزہ فطرت اور خد انما عادات و خصائل ہی کا نتیجہ تھا کہ جس نے بھی بصیرت کی نگاہ سے دیکھا آپ کا والہ و شیدا ہو گیا۔میاں محمد یاسین صاحب احمدی ٹیچر بلوچستان کی روایت ہے کہ ” مجھے مولوی برہان الدین صاحب میں میر نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی غلام رسول صاحب قلعہ میاں سنگھ کے پاس گئے اور اس وقت حضور ابھی بچہ ہی تھے۔اس مجلس میں کچھ باتیں ہو رہی تھیں۔باتوں باتوں میں مولوی غلام رسول صاحب نے جو ولی اللہ و صاحب کرامات تھے فرمایا کہ اگر اس زمانہ میں کوئی نبی ہو تا تو یہ لڑکا نبوت کے قابل ہے۔انہوں نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہی۔مولوی برہان الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا۔مکرم مولوی غلام محمد صاحب سکنہ بیگووالہ ضلع سیالکوٹ نے بتایا کہ میں نے یہ بات اپنے والد محمد قاسم صاحب سے اسی طرح سنی تھی" حضرت مسیح موعود دورِ تعلیم میں "النبی الامی" کا قابل فخر خطاب ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے تنہا آنحضرت ا کو عطا ہوا اور باقی انبیاء کو بچپن میں کچھ نہ کچھ دنیاوی تعلیم حاصل کرنا پڑی۔اس خدائی دستور کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ابتدائی عمر میں تین اساتذہ سے چند ابتدائی علوم پڑھنے کا موقعہ ملا۔سکھا شاہی کے جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے۔ہر طرف جہالت کی تاریکی مسلط تھی اور عوام