تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 665 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 665

تاریخ احمدیت جلدا ۶۵۳ اخبار الحکم کا اجراء حواشی حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب احمدیت کے پہلے صحافی ہی نہیں اولین مورخ بھی تھے آپ کی ولادت نومبر ۱۸۷۵ء میں ہوئی اور ۵- دسمبر ۱۹۵۷ء کو سکندر آباد میں انتقال فرمایا۔آپ کی پوری عمر جماعت کی قلمی خدمت میں گزری ہے خصوصاً تاریخ احمدیت سے آپ کو آخر تک ایک خاص شغف تھا۔چنانچہ آپ نے اپنی صحافتی اور دیگر علمی فرائض کے ساتھ ساتھ حیات النبی " اور "حیات احمد " کے نام پر متعد دو جلدوں میں حضرت مسیح موعود کی حیات طیبہ کے حالات شائع کئے جو ابتداء سے ۱۹۰۰ء تک کے واقعات پر مشتمل ہیں علاوہ از یں آپ نے سیرت مسیح موعود " کے نام پر چار مبسوط جلدیں بھی لکھیں جو آپ کی زندگی میں ہی چھپ کر شائع ہو گئی تھیں۔مختلف صحابہ یا مذ ہبی لیڈروں کے نام حضرت اقدس نے جو خطوط لکھے ان کا بہت بڑا قیمتی ریکارڈ بھی آپ نے شائع کر کے محفوظ کر دیا۔علاوہ ازیں صحابہ مسیح موعود کے حالات مرتب کرنے کی پہلی تحریک (۴ مارچ ۱۹۲۰ء کو) آپ ہی نے کی اور پھر نہایت درجہ سعی و جد وجہد سے سینکٹروں عشاق احمد کے سوانح اپنے اخبار الحکم میں شائع فرما دیئے۔جو ایک مستقل قلمی جہاد تھا یہاں یہ ضمت اذ کر کیا جانا ضروری ہے کہ دوسری تحریک نے 193 ء میں حضرت خلیفہ اصبیع الثانی ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز نے فرمائی جس کی تعمیل میں نظارت تألیف و تصنیف قادیان کی طرف سے جناب ملک محمد عبد اللہ صاحب مولانا شیخ عبد القادر صاحب (سابق سود اگر عمل) اور جناب مہاشہ فضل حسین صاحب کو اس اہم کام پر مقر کیا گیا اور ان کی سعی جد و جہد سے روایات صحابہ کا ایک قیمتی ذخیرہ چودہ جلدوں میں تیار ہو گیا۔جس کا ایک حصہ سلسلہ کے مختلف رسائل میں بھی شائع ہو چکا ہے صحابہ کے سوانح سے متعلق تیسری تحریک جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے قادیان نے مئی ۱۹۴۵ء سے شروع کی جسے وہ اب تک نہایت خوش اسلوبی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔چنانچہ آپ کی شبانہ روز کوششوں کا ثمر " اصحاب احمد “ اور مکتوبات اصحاب احمد کی متعدد جلدوں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے جو آپ کالا ئق صد تحسین کارنامہ ہے۔حیات احمد " جلد چهارم صفحه ۵۸۹ ولادت ۲۸- اکتوبر ۱۸۹۷ء وفات ۱۹- فروری ۱۹۴۴ء مصر میں برسوں تک تبلیغی جہاد میں مصروف رہے۔وہاں ایک اخبار جاری کیا۔سلسلہ کے متعلق عربی زبان میں بعض کتابیں بھی شائع کیں اور مخلصین کی ایک جماعت قائم کر دی۔بلند خیالی اور اولوالعزمی اپنے والد سے ورثہ میں لی تھی۔"سیرت ام المومنین "" مرکز احمدیت " اور " تاریخ مالا بار " ایسی اعلیٰ تألیفات آپ کی بہترین علمی یاد گار ہیں۔مرحوم کو زیا بیس کا عارضہ لاحق تھا۔مگر مرتے دم تک ایک بہادر سپاہی کی طرح اپنا فرض منصبی ادا فرماتے رہے۔اخبار " الفضل ۲۴ مئی ۱۹۵۸ء صفحہ ۵ کالم ۲-۳ ۵ سلسلہ احمدیہ " (مولفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) الحکم ۱۴۴ جنوری ۱۹۳۴ء صفحه ۳ حضرت مولانا صف اول کے ان عظیم مجاہدوں میں سے تھے جن کی پوری عمر سلسلہ کی قلمی خدمت میں گزری۔آپ کی حیرت انگیز علمی قابلیت کے باعث آپ کو نجی کا عمدہ پیش کیا گیا مگر آپ نے دیار حبیب میں دھونی رمانے کو ترجیح دی۔ابتدا تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر رہے۔برسوں تک ریویو آف ریلیجر کی ادارت بھی کی۔کتاب "قتل مرتد اور اسلام " آپ کے قلم کاری شاہکار ہے۔آپ قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ و تفسیر پر مامور ہوئے جس کی تکمیل کے لئے یورپ کا طویل سفر بھی اختیار کیا۔اور بالا خر پیرانہ سالی کے دامن میں پوشیدہ امراض کا مردانہ وار مقابلہ کرتے اور قرآن پاک کی خدمت کرتے ہوئے ۱۳۔نومبر ۱۹۴۷ء کو لاہور میں انتقال فرما گئے ( تاریخ ولادت ۲۴ نومبر ۶۱۸۷۵) - ولادت قریباً ۱۸۷۴ء وفات ۲۷ اپریل ۱۹۵۶ء - حضرت مولوی صاحب کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں حضرت مولانا نور الدین صاحب کی ہدایت پر بعض نایاب کتب کی فراہمی کے لئے مصر تشریف لے گئے اور وہاں بعض کتب نقل کر کے قادیان لائے۔مصر میں آپ نے جامع ازہر سے عربی تعلیم بھی مکمل کی۔اور تبلیغ سلسلہ بھی کرتے رہے اس لحاظ سے آپ مصر کے پہلے احمدی مبلغ بھی قرار دیئے جاتے ہیں۔مدتوں تک "مدرسہ احمدیہ " کچھ رس رہے اور قوم کے سینکٹروں نوجوانوں کو علوم اسلامیہ سے روشناس کرایا۔ولادت قریباً ۱۸۵۴ ء وفات ۲۸ جون ۱۹۴۲ء شهید احمدیت مولانا عبید اللہ صاحب مبلغ ماریشیس کے والد ماجد تھے سلسلہ کے