تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 666
تاریخ احمدیت جلدا مشہور پنجابی واعظ گزرے ہیں۔۶۵۴ - مولف فتاوی مسیح موعود ۳۱۳۴ اصحاب میں آپ کا نمبر ۱۵۰ ہے۔ዘ- اخبار الحکم کا اجراء والد بزرگوار حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ! آپ نے ۲۹ مارچ ۱۹۳۲ء کو ۸۶ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔صاحب کشف و الہام تھے اور سلسلہ کے ایک بہادر اور غیر سپاہی تھے حضرت مسیح موعود اور اہل بیت سے انہیں خدایا نہ محبت تھی۔تاریخ وفات ۱۴ دسمبر ۱۹۵۲ء عمر ۶ ۷ سال کتاب البریہ " سے " حقیقتہ الوحی " تک کی تمام کتب میں سنگسازی کی سعادت آپ " کو نصیب ہوئی۔نیز حضور کی متعدد کتب اور ریویو آف ریلیجن - اردو کے سالہا سال تک کا تب رہے۔۱۳ مرحوم کپور تھلہ کے ایک گاؤں مراد میں حافظ فتح الدین صاحب کے ہاں دسمبر ۱۸۷۴ء میں پید اہوئے اور ۱۳- اکتوبر ۱۹۵ ء کو وفات پائی۔جنوری ۱۸۹۲ء میں جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مباحثہ عبد الحکیم کلانوری کے سلسلہ میں لاہور میں تشریف لائے تھے پہلی مرتبہ حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۱۸۹۴ء میں اسلامیہ کالج کے ریاضی کے پروفیسر مقرر ہوئے اور یہیں خواجہ کمال الدین صاحب سے (جو بیعت میں داخل ہو چکے تھے اور کالج کے سٹاف میں شامل تھے) راہ درسم پیدا ہو گئی۔دو ڈھائی سال میں جب باہمی تعلقات محبت بہت ترقی کر گئے تو خواجہ صاحب نے انہیں قادیان جانے کی تحریک کی جس پر آپ کے ہمراہ مارچ ۱۸۹۷ء میں قادیان پہنچے۔اور حضور کی شبانہ روز اہم خدمات دینیہ اور اشاعت اسلام کا جذبہ دیکھ کر شامل احمدیت ہو گئے (پیغام صلح ۲۷ جنوری ۱۹۳۳ء صفحہ ۲) آپ ایل ایل بی کا امتحان پاس کر کے گورداسپور میں وکالت کرنا چاہتے تھے۔اور اس کے لئے انتظامات مکمل بھی کر لئے تھے کہ جون ۱۸۹۹ء میں چند دنوں کے لئے قادیان آئے۔یہاں حضور کی بعض تالیفات کا انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے دو ماہ گزر گئے اسی دوران میں یورپ کے لئے ایک انگریزی رسالہ کی تجویز ہوئی جس کے لئے حضور کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور آپ ہجرت اختیار کر کے قادیان آگئے جہاں چودہ سال تک ریویو آف ریلیج کی ادارت اور صدرانجمن احمدیہ کی سیکرٹری شپ وغیرہ مختلف خدمات سرانجام دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔مارچ ۱۹۱۴ء میں نظام خلافت سے الگ ہو کر لاہور چلے آئے اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی بنیاد رکھی۔ایک مرتبہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ خواب میں دکھائے گئے حضور نے ان سے رویا میں کہا۔" آپ بھی صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ"۔(البدر یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۴) ولادت قریباً ۱۸۷۸ء) جماعت احمدیہ کی ایک مقدس شخصیت اور صاحب کشف و الہام بزرگ ہیں جن پر حضرت مسیح موعود کی عقیدت و برکت نے ایک غیر معمولی عاشقانہ رنگ چڑھا دیا ہے اس آسمانی سلسلہ میں داخل ہونے کے بعد آج تک زبان و قلم سے تبلیغ حق میں سرگرم عمل ہیں حضرت مولانا صوفی بھی ہیں مناظر بھی ہیں اور پنجابی اردو عربی اور فارسی کے شاعر بھی !! حیات قدمی کی متعدد جلدوں میں آپ نے اپنی زندگی کے ایمان افروز سوانح شائع فرمائے ہیں جو مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔(وفات دار بر ۱۹۹۳ء) ۱۵- سلسلہ احمدیہ کے جید عالم اور صاحب کشف والہام تھے۔نومبر ۱۸۵ء میں بمقام گولیکی (ضلع گجرات) میں پیدا ہوئے ۱۹۲۵ء میں ہجرت کر کے قادیان میں مستقل رہائش اختیار کی اور ۱۳۱۲- اپریل ۱۹۴۰ء کی شب کو رحلت فرمائی اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔آپ کے فیض یافتہ شاگروں کا حلقہ بڑا وسیع اور احمدیوں ، غیر احمد یوں بلکہ غیر مسلموں تک پھیلا ہوا تھا۔تفصیلی حالات کے لئے غیراحمد یں بلکہ ملاحظہ ہو ا الفضل ۲۷- اپریل ۱۹۴۰ء صفحہ ۴ تا ۶ حضرت قاضی صاحب کو اخبار "بدر" الفضل " رساله "ریویو آف ریلیجز " (اردو) " تشحمید الازبان "مصباح " اور "احمدیہ گزٹ فرمنکہ سلسلہ کے اکثر قدیم رسائل و جرائد کی قابل رشک خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔خصوصا الفضل " کی اشاعت میں آپ نے نمایاں حصہ لیا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اصبح الثانی ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ” جب الفضل نکلا ہے اس وقت ایک شخص جس نے اس اخبار کی اشاعت میں شائد مجھ سے بڑھ کر حصہ لیا وہ قاضی ظہور الدین صاحب اکمل ہیں اصل میں سارے کام وہی کرتے تھے اگر ان کی بد نہ ہوتی تو مجھ سے اخبار چلانا مشکل ہوتا " الفضل ۴ جولائی ۱۹۲۴) قاضی صاحب کے قلم سے آج تک ۳۶ کے قریب تالیفات بھی شائع ہو چکی ہیں جن میں ظہور اصحیح " ظهور المهدی " اور " الواح الهدی " بہت مشہور ہیں۔(وفات ۲۷۔ستمبر ۱۹۶۶ء)