تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 639
تاریخ احمدیت۔جلدا مقدمه اقدام قتل اور بریت حسین صاحب وہی صاحب تھے جنہوں نے حسین کامی کی آمد پر آپ کے خلاف اشتعال انگیز مضامین لکھ کر عام فضا سخت مکدر کر دی تھی۔بایں ہمہ ان کو آپ کے اخلاق عالی اور بلند کیریکٹر کے لحاظ سے پوری طرح اعتماد تھا کہ باوجود میری معاندانہ روش کے آپ کی زبان حق کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔چنانچہ یہی ہوا۔حضرت اقدس گو بذریعہ کمیشن شہادت دینے کا مطالبہ فرما سکتے تھے۔مگر آپ نے یہ گوارا نہ کیا اور باوجود ہزاروں خطرات کے سفر ملتان اختیار فرمایا اور شہادت دی اور جیسا کہ قبل از وقت اطلاع دی گئی تھی حاکم کو کچھ ایسا سو ہوا کہ قسم دینا بھول ہی گیا اور شہادت شروع کر دی۔ملتان سے واپسی پر حضور نے لاہور میں شیخ رحمت اللہ صاحب مالک واپسی پر لاہور میں قیام بھٹی ہاؤس کے مکان پر (جو انار کلی میں پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی کے سامنے واقع تھا، چند دن قیام فرمایا۔اس اثناء میں مختلف مذاہب و ملت کے لوگ بکثرت آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے۔اور آپ علم و حکمت کے وہ موتی لٹاتے کہ لوگ دنگ رہ جاتے۔اس موقعہ کی ایک پر علم و معرفت مجلس کا منظر چودھری محمد اسماعیل صاحب ریٹائرڈ ای۔اے سی نے اپنے قلم سے کھینچا ہے جو بڑا ہی دلکش اور ایمان پرور ہے۔آپ لکھتے ہیں۔حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کا دولت کدہ جو ان کی پرانی دکان بمبئی ہاؤس کے عقب میں تھا۔حضرت اقدس کے نزول اجلال کے باعث رشک جنت بنا ہوا تھا۔سردی کا موسم تھا۔ایک وسیع کمرہ کی باہر والی طاقچی میں حضرت صاحب تشریف فرما تھے۔اس وقت کے حالات کے مطابق یہ جگہ بہت غیر محفوظ تھی۔باہر سے بڑی آسانی سے حملہ ہو سکتا تھا۔مگر بغیر کسی محافظت کے حضرت اقدس نہایت اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے خدام کے علاوہ شہر کے بہت سے معزز اشخاص وہاں موجود تھے۔کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔غیر از جماعت لوگ مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے اور حضرت صاحب جواب دیتے تھے آخر عیسائیوں کی طرف سے ایک اعتراض پیش ہوا۔کہ "قرآن مجید میں جو قصے درج ہیں وہ بائبل سے لئے گئے ہیں"۔نہیں یہ اعتراض کسی عیسائی نے پیش کیا یا کسی مسلمان نے کسی عیسائی کی طرف سے پیش کیا۔چونکہ مسئلہ اہم تھا اور حاضرین کی تعداد اتنی تھی کہ اگر حضرت صاحب بیٹھ کر جواب دیتے تو سب حاضرین نہ سن سکتے۔اس واسطے حضرت کھڑے ہو گئے اور ایسی معرکہ کی تقریر فرمائی کہ اپنی جماعت کے لوگ تو ایک طرف رہے دوسرے لوگ بھی عش عش کرنے لگے۔مجھے وہ سماں نہیں بھول سکتا جب بہت سے دلائل دے کر حضرت صاحب نے فرمایا۔” غرض جس طرح گھاس پھوس اور چارہ گائے کے پیٹ میں جاکر لہو اور پھر تھنوں میں جا کر دودھ بن جاتا ہے اسی طرح تو ریت اور انجیل کی کہانیاں اور داستانیں قرآن میں آکر نور اور حکمت بن گئیں "۔یہ سن کر ہال جزاک اللہ اور بارک اللہ کے نعروں معلوم