تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 629 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 629

تاریخ احمدیت جلد ۶۲۸ مقدمه اقدام قتل اور بریت ہوئے تھے۔مولوی فضل دین صاحب وکیل مرزا صاحب نے تعجب کے لہجہ میں کہا کہ ”دیکھو آج مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب کی شہادت ہے اور آج بھی یہ شخص ڈاکٹر کلارک کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔اس کے علاوہ احاطہ بنگلہ میں عبد الحمید جس کی بابت بیان کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے مرزا صاحب نے اسے تعینات کیا تھا۔ایک چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔رام سجدت وکیل آریہ اور پولیس کے چند آدمی اس کے گرد بیٹھے تھے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ عبد الحمید کے ہاتھوں پر کچھ نشان کئے جا رہے ہیں۔چنانچہ وکیل حضرت مرزا صاحب نے ان ہر دو واقعات کو نوٹ کر لیا۔اور جب مقدمہ پیش ہوا تو اول عبد الحمید سے وکیل حضرت مرزا صاحب نے سوال کیا کہ وہ احاطہ کو بھی مارٹن کلارک میں بیٹھا ہوا تھا۔اور رام مجدت وکیل اور پولیس والے اس کے پاس تھے۔اور کیا اس کو مرزا صاحب کے بر خلاف جو بیان دیتا تھا اس کے لئے کچھ باتیں تلقین کر رہے تھے اور کچھ نشان اس کے ہاتھوں پر کر رہے تھے اس وقت عبد الحمید سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔اس نے رام مجدت وغیرہ کی موجودگی کو تسلیم کیا اور جب اس کے ہاتھ دیکھے گئے تو بہت سے نشانات نیلے اور سرخ پنسل کے پائے گئے جو خدا جانے کن کن امور کے لئے اس کے ہاتھ پر بطور یادداشت بنائے گئے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شہادت سے قبل مولانا مولوی نور الدین صاحب کی شہادت ہوئی ان کی سادہ ہیت یعنی ڈھیلی ڈھالی سی بندھی ہوئی پگڑی اور کرتے کا گر بیان کھلا اور شہادت ادا کرنے کا طریق نهایت صاف اور سیدھا سادھا ایسا موثر تھا کہ خود ڈپٹی کمشنر بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ ”خدا کی قسم اگر یہ شخص کہے کہ میں مسیح موعود ہوں تو میں پہلا شخص ہوں گا جو اس پر پورا پورا غور کرنے کے لئے تیار ہوں گا۔مولوی نور الدین صاحب نے عدالت سے دریافت کیا کہ ” مجھے باہر جانے کی اجازت ہے یا اسی جگہ کمرہ کے اندر رہوں"۔ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ”مولوی صاحب! آپ کو اجازت ہے جہاں آپ کا جی چاہے جائیں۔ان کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب کی شہادت ہوئی۔۔۔۔اور ان کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شہادت کے لئے کمرہ میں داخل ہوئے اور دائیں بائیں دیکھا تو کوئی کرسی فالتو پڑی ہوئی نظر نہ آئی۔مولوی صاحب کے منہ سے پہلا لفظ جو نکلاوہ یہ تھا کہ حضور کرسی ڈپٹی کمشنر صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ " کیا مولوی صاحب کو حکام کے سامنے کرسی ملتی ہے "۔میں نے کرسی نشینوں کی فہرست صاحب کے سامنے پیش کر دی اور کہا کہ اس میں مولوی محمد حسین صاحب یا ان کے والد بزرگوار کا نام تو درج نہیں۔لیکن جب کبھی حکام سے ملنے کا اتفاق ہو تا ہے تو بوجہ عالم دین یا ایک جماعت کا لیڈر ہونے کو وہ انہیں کرسی دے دیا کرتے ہیں۔اس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے مولوی صاحب کو کہا کہ "آپ کوئی سرکاری طور پر کرسی نشین نہیں ہیں آپ سیدھے کھڑے ہو جائیں اور