تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 628
تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۲۷ مقدمه اقدام قتل اور بریت مرض الموت میں خود لکھوا کر جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مولف " مجد داعظم کو بھیجوایا۔اس بیان سے عیسائیوں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی آمیزش پر بھی واضح روشنی پڑتی ہے۔راجہ صاحب لکھتے ہیں۔”میں ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ کے زمانہ میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ریڈر (مسلحواں) تھا۔میں پانچ یا چھ روز کی رخصت پر اپنے گھر راولپنڈی گیا ہوا تھا۔رخصت سے واپسی پر جب میں امر تسر پہنچا اور سیکنڈ کلاس کے ڈبہ میں یہ امید روانگی بیٹھا ہوا تھا جو دو یوروپین صاحبان جن میں سے ایک تو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک خود تھا اور دوسرا کا راک جو وکیل تھا اسی ڈبہ میں تشریف لائے اتنے میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی آگئے اور وہ اسی سیٹ پر جہاں میں بیٹھا تھا بیٹھ گئے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک میرے زمانہ ایام ملازمت ضلع سیالکوٹ کے واقف تھے اور مولوی محمد حسین صاحب سے بھی اچھی واقفیت تھی اس واسطے ایک دو سرے سے باتیں شروع ہو گئیں۔تب مجھے معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی ڈاکٹر صاحب موصوف کے ہم سفر ہیں۔بلکہ ان کا ٹکٹ بھی ڈاکٹر صاحب نے خریدا ہے۔پھر ڈاکٹر صاحب موصوف نے بوجہ دیرینہ ملاقات کے مجھ سے دریافت فرمایا کہ آپ تو ضلع سیالکوٹ میں سر رشتہ دار تھے اب کہاں ہیں ؟ میں نے ان کو جواب دیا کہ میں ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب کا ریڈر ہوں تب انہوں نے فرمایا کہ اد ہو۔تب تو شیطان کا سر کچلنے کے لئے آپ بہت کار آمد ہوں گے " چونکہ میں تینوں صاحبان سے واقف تھا اس لئے فوراً سمجھ گیا۔کہ ڈاکٹر صاحب کا اشارہ کس طرف ہے میں نے سرسری طور پر جواب دیا کہ واقعی ہر ایک نیک انسان کا کام ہے کہ وہ شیطان کا سر کچلے مگر مجھے معلوم نہیں ہوا کہ آپ کا یہ کہنے سے مطلب کیا ہے"۔تب ڈاکٹر صاحب موصوف نے مرزا صاحب کا نام لے کر کہا کہ ”وہ بڑا بھاری شیطان ہے جس کا سر کچلنے کے ہم اور یہ مولوی صاحب در پے ہیں۔آپ اقرار کریں کہ آپ ہمیں مدد دیں گے " چونکہ میں اس گفتگو کو طول دینا پسند نہیں کرتا تھا۔میں نے صرف اتنا کہدیا کہ کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کا اور مرزا صاحب قادیانی کا مقابلہ ہے۔اور مقدمہ عدالت میں دائر ہے اس لئے میں اس بات سے معافی چاہتا ہوں کہ اس معالمہ میں زیادہ گفتگو کروں۔جو شیطان ہے اس کا سر خود بخود کچلا جائے گا۔یاد نہیں پڑتا کہ اس کے بعد اور کوئی گفتگو ہوئی یا نہیں۔میں بٹانہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔کیونکہ ڈپٹی کمشنر صاحب وہیں مقیم تھے۔دوسرے دن جب صبح سیر کے لئے نکلے۔مرزا صاحب کے بہت سے متعلقین سے انار کلی (جو بٹالہ میں عیسائیوں کے گرجے اور مشن کے مکان کا نام ہے۔مولف) کی سڑک پر مجھ سے ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر کلارک صاحب جس کو ٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔وہ سامنے تھی۔ہم نے دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب دروازے کے سامنے ڈاکٹر کلارک کے پاس ایک میز پر بیٹھے -