تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 627
تاریخ احمدیت۔جلدا مقدمہ اقدام قتل اور بر برسیت شخص الْحُكَامِ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَاتُكَ إِلَى مَعَادٍ إِلَنْ مَعَ الْأَفْوَاحِ ايْكَ بَغْتَةً یاتیک نصرتى انى انا الرحمن ذو المجد والعلى مخالفوں میں پھرٹ اور ایک متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق اور اخیر حکم ابراء بے قصور ٹھہرانا۔بلجت آیا تی۔یعنی تجھ پر اور تیسرے ساتھ مومنوں پر مواخذہ حکام کو ابتلاء آئیگا۔وہ ابتلاء صرف تہدید ہو گا۔اس سے زیادہ نہیں۔وہ خدا جس نے خدمت قرآن تجھے سپرد کی ہے پھر تجھے قادیان میں واپس لائے گا میں اپنے فرشتوں کے ساتھ نا گہانی طور پر تیری مدد کروں گا۔میری مدد تجھے پہنچے گی۔میں بلند شان والا رحمان ہوں۔میں مخالفوں میں پھوٹ ڈالوں گا اور انجام کار یہ ہو گا کہ تمہیں بری اور بے قصور ٹھہرایا جائے گا۔اور میرانشان ظاہر ہو گا - 1 حضرت اقدس عدالت میں حضرت اقدس اپنے مخلصین کے حلقے میں قیام گاہ پر تشریف لائے اور کچھ دیر ٹھہر کر ڈاک بنگلہ میں پہنچے اور عدالت کے کمرہ میں کرسی پر رونق افروز ہو گئے جو ڈپٹی کمشنر ولیم ما نمیگو ڈگلس صاحب نے پہلے ہی رکھوادی تھی۔اس وقت حضرت اقدس کے ہمراہ مرزا ایوب بیگ صاحب - حکیم فضل الدین صاحب مولوی فضل الدین صاحب وکیل اور کچھ اور لوگ تھے۔کمرے کے باہر تماشائیوں کا بہت بڑا ہجوم تھا۔جس میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نهایت خوشی و خرمی کے ساتھ نمایاں تھے جس کا نقشہ حضرت اقدس نے ان الفاظ میں کھنچا ہے۔کہ اگست کی ۱۰ تاریخ کو اس نظارہ کے لئے مولوی محمد حسین صاحب موحدین کے ایڈووکیٹ اس تماشے کے دیکھنے کے لئے کچھری میں آئے تھے تا اس بندہ درگاہ کو ہتھکڑی پڑی ہوئی اور کانسٹیبلوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھیں اور دشمن کی ذلت کو دیکھ کر خوشیاں منادیں۔لیکن یہ بات ان کو نصیب نہ ہو سکی بلکہ ایک رنجدہ نظارہ دیکھنا پڑا۔اور وہ یہ کہ جب میں صاحب مجسٹریٹ ضلع کی کچھری میں حاضر ہوا تو وہ نرمی اور اعزاز سے پیش آئے اور اپنے قریب میری کرسی بچھوا دی اور نرم الفاظ سے مجھ کو کہا کہ گو ڈاکٹر کلارک آپ پر اقدام قتل کا الزام لگاتا ہے مگر میں نہیں لگا تا"۔اگست ۱۸۹۷ء کا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی گواہی اور عبرتناک حالت دن بھی بڑے معرکے کا دن تھا۔اسی دن عیسائیوں کے آلہ کار ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شہادت تھی۔مولوی محمد حسین صاحب پر اس دن کیا گزری؟ اور کس طرح خدا نے ان کی ذلت و رسوائی کا سامان کیا اس کی کیفیت ظاہر کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے ایک (غیر احمدی) مسل خوان راجہ غلام حیدرخان صاحب ساکن راولپنڈی کا مفصل اور نہایت اہم بیان درج کیا جاتا ہے جو موصوف نے اپنی