تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 622
جلدا مقدمه اقدام قتل اور بریت لینے کا خیال ظاہر کیا۔پادری نور دین نے اسے انچارچ مشن پادری گرے صاحب کے پاس بھیج دیا۔جس نے پادری نور دین سے مشورہ کر کے اسے پادری ہنری مارٹن کلارک صاحب کے سپرد کر دیا۔اس نے بتایا کہ میں قادیان سے آیا ہوں ہندو سے مسلمان ہوا ہوں اور عیسائی ہو نا چاہتا ہوں- n - عبد الحمید کی زبانی قادیان سے آنے کا تذکرہ سن کر پادری مارٹن کلارک نے نہایت ہوشیاری سے یہ خوفناک سکیم تیار کرلی کہ اسے آلہ کار بنا کر حضور کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا جائے۔چنانچہ اس کی تکمیل کے لئے عبد الحمید بیاس لے جایا گیا جہاں ہنری مارٹن کلارک صاحب کے گماشتوں نے نہایت ڈرامائی انداز میں اس سے پوچھا کہ سچ بتلاؤ تم کس لئے آئے ہو ورنہ کپتان صاحب پولیس کے حوالہ کر دئیے جاؤ گے ؟ اس نے کہا کہ عیسائی ہونے کو آیا ہوں اور کوئی بات نہیں انہوں نے کہا تم خون کرنے آئے ہو۔تیسرے رو ز مارٹن کلارک بھی دو ایک اور ساتھیوں کو لے کر پہنچ گئے۔اور اس کا فوٹو لے کر واپس چلے آئے اور تار دے کر اسے امر تسر بلوالیا۔اسٹیشن پر پھر اس کی تصویر لی گئی۔وہ کو ٹھی میں گیا اور پھر اسے بیاس بھجوا دیا گیا۔دو روز کے بعد پادری ہنری مارٹن کلارک پادری وارث دین۔بھگت پریم داس اور بعض دوسرے پادری دوبارہ بیاس پہنچے۔پادری وارث دین اور عبد الرحیم نے جو اس کام کے لئے مقرر کئے گئے تھے سب کے روبرو اس سے پوچھا کہ اب بتلاؤ تم کس کام کے واسطے آئے ہو اس نے پھر جواب دو ہرا دیا کہ عیسائی ہونے کو آیا ہوں انہوں نے کہا کہ تم کو مرزا نے بھیجا ہے۔اس نے کہا نہیں۔اس پر عبد الرحیم نے (جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا) عبد الحمید پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ تم یہ بات کہہ دو مرزا غلام احمد نے مجھے بھیجا ہے کہ ڈاکٹر کلارک کو پتھر سے ماردو۔اور ساتھ ہی تصویر دکھلائی اور کہا کہ تم بات کہہ دو۔ورنہ جہاں جاؤ گے پکڑے جاؤ گے۔پادریوں نے اس سے یہ بھی کہا کہ اس طرح بیان کر دو۔اور مرزا کو پھنسا دو۔تم کو کچھ نہیں ہو گا۔تم کو ڈاکٹر صاحب نے معافی دے دی ہے "۔عبد الحمید نے جو اپنے آپ کو اس طرح پادریوں کو حلقہ میں بے بس پایا تو مجبورا ان کے منشاء کے عین مطابق بیان لکھ کر اس پر دستخط کر دیئے۔آٹھ پادریوں نے اس پر گواہی کے دستخط کئے اس کے بعد ٹرین میں پادری ہنری مارٹن کلارک اسے اپنے ہمراہ امرت سر لائے رات کو سلطان ونڈ لے گئے۔خیر دین ڈاکٹر کے مکان پر رکھا اور اسے خوب سکھلایا۔کہ تم عدالت میں یہ بیان کرنا کہ مرزا صاحب نے مجھے بھیجا ہے کہ مارٹن کلارک کو پتھر سے مار دو۔اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ ایسا ہی کہوں گا۔عبدالرحیم نے اس سے یہ بھی کہا کہ تم یہ کہنا کہ ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر میری نیت قتل کر دینے کی بدل گئی ہے۔صبح اسے گاڑی میں بٹھلا کر کوٹھی پر لے آئے اور اسے تسلی دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرت سراے - ای۔مارٹینو کی عدالت میں لے گئے جہاں دفعہ ۱۰۷ فوجداری کے تحت اس نے وہی سکھایا ہو ا بیان دیا پھر مارٹن کلارک