تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 611
تاریخ احمدیت جلد 41- سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی 10 المعظم نے اس سے کنارہ کر لیا اور زوجیت کے تمام تعلقات منقطع کر دیئے۔اب یہ نوجوان برو سائیں نظر بند کیا گیا ہے اور اس کے تمام تمغہ جات و جاگیر وغیرہ ضبط ہو گئی۔کیسا درد ناک سبق ہے کہ جس شخص کو سلطنت کی ترقی۔اقبال میں سائی ہونا چاہیے تھا وہ سازش کے جرم میں زندان میں ڈالا جائے۔جب تک ترکوں میں اس قسم کے آدمی ہیں وہ اپنے آپ کو کبھی بھی خطرہ سے باہر نہیں نکال سکتے۔ان پے در پے غداریوں اور سازشوں نے ملکی نظام درہم برہم کر دیا۔جس نے ملک میں سخت ابتری پھیلا دی اور سلطان عبد الحمید ثانی کو ۱۹۰۹ ء میں تخت سے اتار دیا گیا اور ان کے بھائی سلطان محمد پنجم بادشاہ ہو گئے۔سیاسی بحران اس وقت انتہاء کو پہنچ چکا تھا خزانہ لٹ چکا تھا نہ فوج کی حالت درست تھی نہ ملکی نظم و نسق ہی ٹھیک تھا اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اٹلی نے طرابلس پر قبضہ کر لیا۔ساتھ ہی بلقان میں لڑائی چھڑ گئی۔یہ ختم ہوئی تو پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی۔اور ترکی کو جرمنی کے حلیف کی شکل میں اس میں حصہ لینا پڑا۔لڑائی جاری تھی کہ سلطان محمد پنجم انتقال کر گئے اور سلطان عبد الوحید تخت پر بیٹھے۔۱۰- اگست ۱۹۱۸ ء کو جرمن نے ہتھیار ڈال دئے۔اور اتحادیوں نے انتقام لینے کے لئے ظالمانہ طور پر ترکی سلطنت کے حصے بخرے کر کے اسے آپس میں بانٹ لیا۔حجاز ، عراق ، فلسطین اور ار دون انگریزوں نے ہتھیائے۔فرانس نے شام و لبنان پر قبضہ کیا۔ایشیائے کو چک یونان کو ملا۔اور باقی حصہ مشترک ملکیت قرار پایا۔اور بظاہر ترکی سلطنت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی۔لیکن خدا تعالٰی نے اپنے فرستادہ اور برگزیدہ کی دعاؤں کے طفیل اور اپنے الہام کے مطابق اس کے مردہ قالب میں زندگی کی روح پھونکنے کے لئے نوجوان ترک مصطفی کمال پاشا روف بے اور ڈاکٹر عدنان کو کھڑا کر دیا۔جنہوں نے تھوڑی بہت فوج جمع کر کے جنگ شروع کر دی۔خلیفہ عبد الوحید سے اتحادیوں نے حکم لکھوایا تھا کہ مصطفیٰ کمال وغیرہ باغی ہیں اور قتل کے مستحق۔مگر انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہم نہ خلیفہ عبد الوحید کو خلیفہ جانتے ہیں نہ اس کی حکومت کو صحیح حکومت - آخر خدا کے فضل سے یونان نے شکست کھائی اور سارا ایشیائے کو چک اتحادیوں کے پنجہ ت نکل کر ترک جھنڈے کے نیچے آگیا۔۲۲- اکتوبر ۱۹۲۲ء کو قسطنطنیہ پر بھی قبضہ ہو گیا۔اس انقلاب کے بعد یکم مارچ ۱۹۲۴ء کو مصطفی کمال پاشا نے جدید ترکی حکومت قائم کرلی۔اور آخری " خلیفتہ المسالمين " حکومت کے ایک گھنٹہ کے نوٹس پر حدود ترکی سے بھاگ کر انگریزوں کے زیر سایہ مالٹا میں پناہ گزیں ہو گیا۔حجتہ اللہ " کی تصنیف و اشاعت چند ماہ پیشتر مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے " ضرب النعال على وجه الدجال" کے