تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 612
تاریخ احمدیت۔جلدا سلطنت ترکی میں انقلاب کی پیشگوئی J عنوان سے حضرت اقدس کے خلاف ایک نہایت گندہ اشتہار شائع کیا تھا جس میں آپ کی بعض پیشگوئیوں پر شرمناک اعتراضات کئے اور اپنی عربی لیاقت و قابلیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے عربی زبان میں مباحثہ کی دعوت دی۔حضرت اقدس نے جوابا " ضمیمہ انجام آتھم " میں لکھا کہ ہم اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ تم اقرار کرد که اگر تم باجود اتنے دعوئی فضیلت اور عربی دانی کے میرے جیسے انسان سے صاف شکست کھا جاؤ - (جس کی نسبت تمہیں اسی اشتہار میں اقرار ہے کہ اس شخص کو عربی دانی کی ہر گز لیاقت نہیں) تو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے معجزہ سمجھ کر فی الفور میری بیعت میں داخل ہو جاؤ گے۔حضرت اقدس نے ایک عرصہ تک انتظار کیا۔مگر جب غزنوی صاحب نے کوئی جواب نہ دیا۔تو آپ نے نجفی اور غزنوی دونوں کی سرکوبی کے لئے فصیح و بلیغ عربی میں حجتہ اللہ " ایسی اعجازی تصنیف فرمائی جو ۱۷۔مارچ ۱۸۹۷ء کو لکھنی شروع ہوئی اور ۲۶- مئی ۱۸۹۷ء کو چھپ گئی۔حضرت اقدس نے حجتہ اللہ " میں غزنوی صاحب کو کھلے لفظوں میں چیلنج دیا کہ اس دن کہ یہ رسالہ ان کے پاس پہنچ جائے اس مضمون کی نظیر اس کے حجم اور ضخامت کے مطابق اس کی نظم اور نثر کے موافق بالمقابل شائع کر دے اور پروفیسر عربی مولوی عبداللہ صاحب یا کوئی اور پروفیسر جو مخالف تجویز کریں ایسی قسم کھا کر جو موکد معذاب الہی ہو جلسہ عام میں کہدیں کہ یہ مضمون تمام مراتب بلاغت اور فصاحت کے رو سے مضمون پیش کردہ سے بڑھ کر یا برابر ہے اور پھر قسم کھانے والا میری دعا کے بعد اکتالیس دن تک عذاب الہی میں ماخوذ نہ ہو تو میں اپنی کتابیں جلا کر جو میرے قبضہ میں ہوں گی ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔اور اس طریق سے روز کا جھگڑا طے ہو جائے گا اور اس کے بعد جو شخص مقابل پر نہ آیا تو پبلک کو سمجھنا چاہیے کہ وہ جھوٹا ہے"۔اس چیلنج نے ان صاحب کی عربی دانی کی سب حقیقت عریاں کر دی ان کا بھرم کھل گیا اور وہ آخر دم تک اس علمی معجزہ کے جواب پر قلم اٹھانے کی جرات نہ کر سکے اور اللہ کی حجت تمام ہوئی۔محمود کی آمین جون ۱۸۹۷ء میں سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ختم قرآن کی مبارک تقریب منعقد ہوئی جس میں باہر سے بھی احباب شامل ہوئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ اسلام نے اس خوشی کے موقعہ پر تمام حاضرین کو پر تکلف دعوت دی۔حضرت ام المومنین نے چند روز قبل جناب شیخ نور احمد صاحب کی اہلیہ صاحبہ سے ارشاد فرمایا کہ