تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 602 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 602

تاریخ احمدیت جلدا 4+1 پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام کاغذات وغیرہ دیکھے گئے تلاش کرتے کرتے ایک خط نکلا جس میں کسی احمدی نے لیکھرام کے قتل پر حضرت صاحب کو مبارک باد لکھی تھی۔دشمنوں نے اسے جھٹ کپتان کے سامنے پیش کیا کہ دیکھئے اس سے کیا نتیجہ لکھتا ہے ؟ حضرت صاحب نے کہا کہ ایسے خطوں کا تو میرے پاس تھیلا رکھا ہے اور پھر بہت خط کپتان کے سامنے رکھ دیئے۔کپتان نے کہا نہیں کچھ نہیں۔۔۔جب کپتان نیچے سرد خانے میں جانے لگا۔تو چونکہ اس کا دروازہ چھوٹا تھا اور کپتان لمبے قد کا آدمی تھا اس کا سر اس زور کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ سے ٹکرایا کہ بیچارہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔حضرت صاحب نے اس سے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم دودھ یا کوئی اور چیز منگوائیں۔اس نے کہا نہیں کوئی بات نہیں۔۔۔حضرت صاحب خود اسے ایک کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف لے جاتے تھے اور ایک ایک چیز دکھاتے ” سراج منیر " اور "استفتاء" کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس نے آریہ سماج کے پراپیگنڈا کی قلعی کھولنے "1 - کے لئے انہی دنوں "سراج منیر " اور "استفتاء " کے نام سے دو اہم کتابیں تصنیف فرما ئیں۔سراج منیر ۲۴ مارچ ۱۸۹۷ء کو لکھی گئی اور مئی ۱۸۹۷ء میں شائع ہوئی۔اس لاجواب تصنیف میں حضرت اقدس نے اپنی صداقت کے ۳۷ نشانات درج فرمائے جو لیکھرام کی ہلاکت سے قبل آفتاب نیم روز کی طرح پورے ہو چکے تھے۔اور آپ کے منجانب اللہ ہونے پر آسمانی گواہ تھے۔رسالہ استفتاء " ۱۲- مئی ۱۸۹۷ء کو شائع ہوا۔جو لیکھرام کی پیشگوئی سے مخصوص تھا۔اور جس میں حضرت اقدس نے اس نشان کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے اور اس میں الہی قدرت کا ہاتھ دکھاتے ہوئے ملک کے اہل الرائے اصحاب سے دریافت کیا ہے کہ کیا خدا تعالٰی کی یہ پیشگوئی کمال صفائی سے پوری ہو گئی ہے یا نہیں ؟ اس کتاب میں حضرت اقدس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ پیشگوئی ابرس قبل براہین احمدیہ " میں بھی بڑی وضاحت سے موجود ہے اور براہین کی تالیف کا وہ زمانہ تھا کہ لیکھرام اس وقت غالبا ۱۲/۱۳ برس کا ہو گا جو اس بات کا نا قابل تردید ثبوت ہے کہ یہ نشان خدا تعالی کی قدرت نمائی سے ظہور میں آیا ہے کسی انسانی منصوبہ کا اس میں ہر گز دخل نہیں۔