تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 600
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۹۹ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام وہ گنگا یشن کی طرح میدان سے فرار اختیار کر گئے۔حضرت اقدس کی خانہ تلاشی آریہ سماجیوں کے جذبات مشتعل دیکھ کر انگریزی حکومت کی مشیزی حرکت میں آگئی۔چنانچہ اس نے قاتل کے حلیہ کا اشتہار شائع کیا۔خفیہ پولیس نے دوڑ دھوپ کر کے کئی افراد کو شبہ میں گرفتار کر لیا۔ایک شخص کشمیر سے پکڑ کر لاہور لایا گیا۔اس شخص کا حلیہ مشتہرہ حلیہ کے مطابق تھا لیکن آخر جب پنڈت لیکھرام کی والدہ اور بیوی نے اسے دیکھا تو کہا یہ وہ شخص نہیں اس کی آواز قاتل کی آواز جیسی نہیں ہے جس پر وہ چھوڑ دیا گیا۔اسی طرح ایک احمدی با بود زیر خاں صاحب بھی (جو برما میں کام کرتے تھے ) زیر حراست کرلئے گئے مگر تفتیش کرنے پر وہ بھی رہا کر دئیے گئے۔اس پکڑ دھکڑ کے علاوہ قتل کا سراغ لگانے کی غرض سے وسیع پیمانے پر تلاشیاں بھی ہو ئیں۔چنانچہ اس سلسلے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خانہ تلاشی بھی ہوئی یہ ۸- اپریل ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے۔حضرت اقدس پولیس افسروں کے آنے سے چند منٹ پیشتر "سراج منیر کی ایک کاپی پڑھ رہے تھے۔جس میں یہ مضمون تھا کہ لیکھرام کے قتل سے آپ پر ویسا ہی ابتلاء آیا۔جیسے مسیح علیہ السلام کو واقعہ صلیب کے موقعہ پر آیا تھا۔یہ مضمون پڑھتے ہوئے آپ کے دل میں یکا یک خیال آیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دشمنوں نے خود بھی ایذا رسانی کی کوششیں کی تھیں اور گورنمنٹ کے ذریعہ سے بھی تکلیف دی تھی۔مگر میرے معاملے میں تو اب تک صرف ایک پہلو ہے کیا اچھا ہو تاکہ گورنمنٹ کی دست اندازی کا پہلو بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک مسٹر یمار چند سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور میاں محمد بخش انسپکٹر بٹالہ اور ہیڈ کانٹیل اور پولیس کی جمعیت نے قادیان پہنچ کر حضور کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔قبل ازیں صبح کے وقت حضرت میر ناصر نواب صاحب نے کہیں سے پولیس کے آنے کی خبر سن لی۔تو وہ سخت گھبرائے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچے اور سخت پریشانی کے عالم میں کہا کہ پولیس گرفتاری کے لئے آرہی ہے۔حضرت اقدس نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔” میر صاحب (دنیادار) لوگ خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا کرتے ہیں۔ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالٰی کی راہ میں لوہے کی کنگن پہن لئے۔پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا۔مگر ایسا نہ ہو گا۔کیونکہ خدا تعالی کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں۔اس وقت حضرت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب بھی بیٹھے تھے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت اقدس پر پولیس کی اطلاع کا خفیف سا اثر بھی نہ ہوا۔اور بدستور کاپی پڑھتے رہے۔لیکن جب پولیس نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ نے کام بند کر دیا اور فور اجا کر دروازہ کھول دیا۔مسٹر بیمار چند نے ٹوپی اتار کر کہا کہ " مجھے حکم آگیا ہے کہ قتل کے مقدمہ میں آپ کے گھر کی تلاشی لوں"