تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 599
تاریخ احمدیت جلد ۵۹۸ پنڈت لیکھرام کا صبر تاک انجام جھوٹے کی لاش ہر ایک ذلت کے لائق ہے اور یہ شرط در حقیقت نہایت ضروری تھی جو لالہ گنگا بشن صاحب کو عین موقعہ پر یاد آگئی۔لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ یہی شرائط بالمقابل اپنے لئے بھی قائم کریں۔ہم نے مناسب نہیں دیکھا کہ ابتداء اپنی طرف سے یہ شرط لگا دیں۔مگر اب چونکہ لالہ گنگا بشن صاحب نے بخوشی خود یہ شرط قائم کر دی اس لئے ہم بھی نہ دل سے شکر گزار ہو کر اور اس شرط کو قبول کر کے اسی قسم کی شرط اپنے لئے قائم کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب گنگا بشن صاحب حسب منشا پیشگوئی مر جائیں تو ان کی لاش بھی ہمیں مل جائے تا بطور نشان فتح وہ لاش ہمارے قبضہ میں رہے اور ہم اس لاش کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ بطور نشان فتح مناسب مصالحوں کے ساتھ محفوظ رکھ کر کسی عام منظر میں یا لاہور کے عجائب گھر میں رکھا دیں گے "۔اب لالہ جی کے لئے کوئی راہ فرار باقی نہیں تھی۔حضرت اقدس ان کی شرطوں کو تسلیم کرتے ہوئے بار بار للکار رہے تھے کہ میدان میں آؤ۔مگر لالہ گنگا بشن صاحب کو تو اپنی لاش سامنے نظر آرہی تھی۔وہ مرد میدان کیسے بنتے۔ناچار ایک اشتہار میں اپنی لاش دینے سے انکار کر کے ہمیشہ کے لئے چپ سادھ لی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی اب آریہ سماج پر تو سناٹا چھا گیا مگر خدا جانے آریوں کی طرف سے نمائندگی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو کیا سوجھی کہ وہ آریوں کی نمائندگی کرتے اور ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے میدان مقابلہ میں آگئے اور اشاعتہ السنہ" میں الہامی قاتل" کے عنوان سے مضمون لکھا کہ وہ لیکرام کے قتل میں آپ کا سازشی ہاتھ ہونے پر قسم کھانے پر آمادہ ہیں مگر ایک برس کی میعاد سے ڈرتے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس قدر مدت میں مر جائیں یا کوئی اور عذاب نازل ہو جائے اس لئے قسم کے لئے فوری نتیجہ پر آنکھ ہونا چاہیے۔یہ شرط چونکہ خلاف سنت و الہام تھی اس لئے حضرت اقدس نے ان کی حیلہ بازیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے لکھا۔IA ایک ایسے شخص کے ساتھ کہ اپنی ذکر کردہ بنیاد الہام ٹھراتا ہے ضد کرنا حماقت ہے۔صاحب الہام کے لئے الہام کی پیروی ضروری ہوتی ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ چند ہفتہ میں ان پر عذاب نازل کرے مگر ہماری طرف سے ایک برس کی ہی میعاد ہو گی۔اب اس سے ان کا منہ پھیرنا اپنے درو نگو ہونے کا اقرار کرتا ہے"۔اس جواب نے مولوی صاحب کے حدیث و سنت کے عالم ہونے کے دعاوی پارہ پارہ کر دئیے۔اور