تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 598
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۹۷ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہیے۔اب اگر کوئی بہادر کلیجہ والا آریہ ہے جو اس طور سے تمام دنیا کو شبہات سے چھڑا دے تو اس طریق کو اختیار کرے - گنگا بشن صاحب کی آمادگی اور فرار حضرت اقدس کے اس چینل پر آریہ سماج دم بخودرہ گئی۔اور کسی بہادر کلیجہ والے آریہ کو آپ کے سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی۔البتہ ایک صاحب گنگا بشن نامی نے ” پنجاب کا چار ۳ اپریل ۱۸۹۷ء میں قسم کھانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔اور لکھا کہ میں قسم کھانے کو تیار ہوں بائیں شرط کہ (۱) پیشگوئی پوری نہ ہونے کی حالت میں آپ کو پھانسی دی جائے (۲) میرے لئے دس ہزار روپیہ گورنمنٹ میں جمع کرا دیا جائے اگر میں بد دعا سے بیچ رہوں تو وہ روپیہ مجھے مل جائے (۳) جب میں قادیان میں قسم کھانے کے لئے آؤں تو اس بات کا ذمہ لیا جائے کہ لیکھرام کی طرح قتل نہ کیا جائے گا جسے حضور نے فورا گنگا بشن کی تینوں شرطیں منظر فرمالیں اور لکھا۔میں تیار ہوں نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ گورنمنٹ کی عدالت میں اقرار کر سکتا ہوں کہ جب میں آسمانی فیصلہ سے مجرم ٹھروں تو مجھ کو پھانسی دیا جائے۔میں خوب جانتا ہوں کہ خدا نے میری پیشگوئی پوری کر کے دین اسلام کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ کیا ہے پس ہرگز ممکن نہیں ہو گا کہ میں پھانسی ملوں یا ایک خرمہرہ بھی کسی تکذیب کرنے والے کو دوں۔بلکہ وہ خدا جس کے حکم سے ہر جنبش و سکون ہے اس وقت کوئی اور ایسا نشان دکھائے گا جس کے آگے گردنیں جھک جائیں"۔۱۴ یہ اشتہار پڑھ کر لالہ جی کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے فضول عذرات سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔مثلاً کہا کہ " ایک سال کو میں نہیں مانتا۔بلکہ چاہتا ہوں کہ فور از مین میں غرق کیا جاؤں یا یہ کہ مہینہ اور گھنٹہ موت کا مجھے بتلایا جائے " حضرت اقدس نے جواب دیا کہ " یہ آپ کے پہلے اقرار کے خلاف ہے علاوہ اس کے میں خدا تعالی کی طرف سے مامور ہوں۔اس کے حکم سے زیادہ نہیں کر سکتا۔اور نہ کم۔ہاں اگر میعاد کے اندر کوئی زیادہ تشریح خداتعالی کی طرف سے کی گئی تو میں اس کو شائع کر دوں گا۔مگر کوئی عہد نہیں۔آپ اگر اپنی بہادری پر قائم ہیں تو ایک سال کی شرط قبول کرلیں۔میں یہ اقرار بھی کرتا ہوں کہ صرف اس حالت میں یہ نشان نشان سمجھا جائے گا۔کہ جب کسی انسانی منصوبہ سے آپ کی موت نہ ہو اور کسی دشمن بد اندیش کے قتل کا شبہ نہ ہو"۔لالہ گنگا بشن صاحب نے اب کی دفعہ یہ شرط بھی زائد کی تھی کہ اگر آپ کو جھوٹا نکلنے کی صورت میں پھانسی دی جائے تو لاش گنگا بشن صاحب کے حوالہ کی جائے جو چاہیں تو جلادیں یا دریا برد کر دیں۔حضرت اقدس نے اس شرط کی منظوری کا بھی اعلان کر دیا اور ساتھ ہی لکھا کہ ”میرے نزدیک بھی