تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 587
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۸۶ اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا چیلنج عالی اور شیاطین کے ہیں۔مگر عیسائیوں کا متفقہ عقیدہ ہے کہ یسوع مسیح مصلوب ہو کر تین دن کے لئے لعنتی ہو گئے تھے۔بنا بریں آپ نے سوال کیا کہ اگر معاذ اللہ جناب یسوع پر واقعی کچھ دنوں تک لعنت پڑ گئی تو ان کا خدا تعالٰی سے انیت کا تعلق کیسے قائم رہ سکتا تھا جب کہ بیٹا ہوتا تو الگ رہا خود پیارا ہونا بھی لعنت کے منافی ہے۔شیخ محمد رضا طهرانی نجفی کی اشتہار بازی شیخ محمد رضا طهرانی نجفی ایک شیعہ مجتہد تھے۔جنہوں نے سستی شہرت اور اپنے علم و فضیلت کا سکہ جمانے کے لئے حضرت اقدس کے خلاف اشتہار بازی کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے حق و کذب کے فیصلے کا یہ مضحکہ خیز طریق پیش کیا کہ ہم دونوں لاہور کی شاہی مسجد کے منارے سے چھلانگ لگا ئیں۔جو صادق ہو گا۔وہ بچ جائے گا۔نیز حضرت اقدس کے دعوئی الہام و نشان کا مذاق اڑاتے ہوئے تعلی کی کہ میں چالیس لمحوں میں نشان دکھا سکتا ہوں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یکم فروری ۱۸۹۷ء کو بذریعہ اشتہار ان کے شاہی مسجد سے چھلانگ لگانے کے مطالبے کا تو یہ لطیف جواب دیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ دنیا میں اس طرز کا واقعہ دو مرتبہ ہوا ہے۔شیخ نجدی نے حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلی مرتبہ یہ کہا تھا اور اب شیخ نجفی مجھ سے یہ تقاضا فرما رہے ہیں۔پس میں بھی انہیں رہی جواب دیتا ہوں جو حضرت مسیح نے شیخ نجدی کو دیا تھا۔کہ میں اپنے خدا کی آزمائش نہیں کرنا چاہتا۔شیخ نجفی کے دعوئی نشان نمائی کے جواب میں حضور نے فرمایا۔کہ چالیس روز کے اندر اگر ہم سے نشان ظاہر ہو گیا اور وہ جو چالیس لمحوں میں کرامت دکھانے کا ادعا کرتے ہیں۔چالیس دنوں میں بھی کچھ نہ رکھا سکے۔تو صادق و کاذب کی خود بخود شناخت ہو جائے گی۔سو چالیس دن کے اندر لیکھرام پشاوری کی ہلاکت کا نشان وقوع میں آگیا۔جس پر حضور نے ۱۰ مارچ ۱۸۹۷ء کو اشتہار دیا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی صداقت پر چمکتا ہو انشان ظاہر کر کے شیخ نجفی کا کذب کھول دیا ہے اور اب کسی مقابلہ کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی۔تاہم تنزل کے طور پر راضی ہیں کہ وہ مسجد شاہی کے منارہ سے اب نیچے گر کے دکھلا دیں۔حضرت سیدہ مبارکہ بیگم صاحبہ مدظله العالی کی ولادت -۲ مارچ ۱۸۹۷ء مطابق ۲۷ - رمضان ۱۳۱۴ھ کو حضرت سیدہ مبارکہ بیگم مدظلہ العالی کی پیدائش ہوئی۔آپ کی ولادت سے قبل حضرت اقدس کو الہاما خبر دی گئی کہ " تنشا فی الحلیه" که یه دختر