تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 588 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 588

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۸۷ اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا چیلنج نیک اختر زیورات میں نشو و نما پائے گی۔پھر ا۱۹۰ء میں الہام ہوا۔” نواب مبارکہ بیگم " ان الہامات اور بعض رویا کی روشنی میں حضور نے (حضرت صاحبزادہ) مرزا بشیر احمد صاحب (حضرت صاحبزاده) مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت سیدہ موصوفہ کی آئین کے موقع پر خصوصاً آپ سے متعلق فرمایا۔اور ان کے ساتھ دی ہے ایک دختر کلام اللہ کو پڑھتی ہے فرفر ہے کچھ کم پانچ کی وہ نیک اختر خدا کا فضل اور رحمت سراسر ہے مقدر ہوا اک خواب میں مجھے پر یہ اظہر کہ اس کو بھی ملے گا بخت برتر لقب عزت کا پادے وہ مقرر نہیں روز ازل سے چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق حضرت صاحبزادی صاحبہ حجتہ اللہ " حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس اعظم ریاست مالیر کوٹلہ سے بیاہی گئیں۔۱۷- فروری ۱۹۰۸ء کو آپ کی تقریب نکاح عمل میں آئی اور ۱۴ مارچ ۱۹۰۹ء کو رخصتانہ ہوا۔خطبہ نکاح حضرت مولانا نور الدین نے پڑھا۔جس میں کہا ایک وقت تھا جب کہ حضرت نواب صاحب موصوف کے ایک مورث اعلیٰ صدرجہاں کو ایک بادشاہ نے اپنی لڑکی نکاح میں دی تھی۔اور وہ بزرگ بہت ہی خوش قسمت تھا۔مگر ہمارے دوست نواب محمد علی خاں صاحب اس سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے نکاح میں ایک نبی اللہ کی لڑکی آئی ہے"۔حضرت سیدہ موصوفہ سلسلہ کی ان بزرگ ہستیوں میں شامل ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے براہ راست تعلق و نسبت کا فخر بھی بخشا ہے اور بلند پایہ اور لطیف روحانی اور ادبی ذوق سے بھی نوازا ہے۔آپ کا شعری کلام تصوف و روحانیت کی نازک خیالیوں اور لطافتوں سے لبریز اور سوز و گداز میں ڈوبا ہوتا ہے۔آپ کی شعری خدمات کا سلسلہ ۱۹۲۴ء سے شروع ہوتا ہے جب کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی یورپ کے پہلے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔آپ کی روح پر در نظموں کا مجموعہ " الشركه الاسلامیه " ربوہ نے " در عدن " کے نام سے دسمبر ۱۹۵۹ء میں شائع کیا ہے نظم کی طرح نثر میں بھی مخصوص طرز نگارش رکھتی ہیں۔زبان نہایت نفیس پاکیزہ اور شگفتہ ہے جو حضرت مسیح موعود کی دعا اور حضرت ام المئومنین نور اللہ مرقدھا کی حسن تربیت کا فیض ہے۔(حضرت سیدہ ۲۳- مئی ۱۹۷۷ء کو انتقال فرماگئیں)