تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 571
تاریخ احمدیت جلدا ۵۷۰ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح قرعہ حضرات ذیل کے نام نکالا تھا۔جناب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی - جناب مولوی حاجی سید محمد علی صاحب کانپوری اور جناب مولوی احمد حسین صاحب عظیم آبادی۔یہاں یہ ذکر کر دینا بھی نا مناسب نہ ہو گا۔کہ ہمارے ایک لوکل اخبار کے ایک نامہ نگار نے جناب مولوی عبدالحق صاحب دہلوی مصنف تغییر حقانی کو اس کام کے لئے منتخب فرمایا تھا ہم اپنے ناظرین کو یہ بھی معلوم کرانا چاہتے ہیں کہ سوامی شو کن چندر نے انعقاد جلسہ سے پہلے اپنے اشتہار واجب اظہار کے ذریعے علمائے مذاہب مختلف ہند کو بہت عار دلا دلا کر اپنے اپنے مذہب کے جوہر دکھلانے کے لئے طلب کیا تھا اور جس جوش سے اور عار دلانے والے طریق سے انہوں نے طلب کیا تھا اس کا ٹھیک اندازہ انہیں کی عبارت سے کیا جا سکتا ہے۔وہ فرماتے ہیں۔ہر ایک قوم کے بزرگ واعظ جانتے ہیں کہ اپنے مذہب کی سچائی کو ظاہر کرنا ان پر فرض ہے پس جس حالت میں اسی غرض کے لئے یہ جلسہ انعقاد پایا ہے کہ سچائیاں ظاہر ہوں۔تو خدا نے ان کو اس فرض کے ادا کرنے کا اب خوب موقع دیا ہے جو ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہو تا۔میرا دل اس بات کو قبول کر نہیں سکتا۔کہ اگر ایک شخص سچا جوش اپنے مذہب کے لئے رکھتا ہو اور فی الواقع اس بات میں ہمدردی انسانوں کی دیکھتا ہو کہ ان کو اپنے مذہب کی طرف کھینچے تو پھر وہ ایسی نیک تقریب میں جب کہ صدہا مہذب اور تعلیم یافتہ لوگ ایک عالم خاموشی میں بیٹھ کر اس کے مذہب کی خوبیاں سننے کے لئے تیار ہوں گے ایسے مبارک وقت کو ہاتھ سے دیدے اور ذرہ اس کو اپنے فرض کا خیال نہ آوے اس وقت میں کیوں کر کوئی عذر قبول کروں۔کیا میں قبول کر سکتا ہوں کہ جو شخص دوسروں کو ایک مملک بیماری میں خیال کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کی سلامتی میری دو میں ہے اور بنی نوع کی ہمدردی کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔وہ ایسے موقع میں جو غریب بیمار اس کو علاج کے لئے بلاتے ہیں وہ دانستہ پہلو تہی کرے۔میرا دل اس بات کے لئے تڑپ رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہو جائے کہ کونسا مذ ہب در حقیقت سچائیوں اور صداقتوں سے بھرا ہوا ہے اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ میں اپنے اس بچے جوش کو بیان کرسکوں۔میرا قوموں کے بزرگ واعظوں اور جلیل الشان حامیوں پر کوئی حکم نہیں۔صرف ان کی خدمت میں سچائی ظاہر کرنے کے لئے ایک عاجزانہ التماس ہے۔میں اس وقت مسلمانوں کے معزز علماء کی خدمت میں ان کے خدا کی قسم دے کر با ادب التماس کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنا مذ ہب منجانب اللہ جانتے ہیں تو اس موقع پر اپنے اسی نبی کی عزت کے لئے جس کے فدا شدہ وہ اپنے تئیں خیال کرتے ہیں اس جلسہ میں حاضر ہوں۔اسی طرح بخدمت پادری صاحبان نهایت ادب اور انکساری سے میری التماس ہے کہ اگر وہ اپنے مذہب کو فی الواقع سچا اور انسانوں کی نجات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں تو اس