تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 566 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 566

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۶۵ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح دے دیا جائے۔لہذا اب کمیٹی میں یہ تبدیلی منظور کرائیں۔چنانچہ کمیٹی کے اجلاس میں جب یہ معاملہ پیش ہوا تو مفتی صاحب کے پیغام سے ایک قسم کی مایوسی ہوئی کیونکہ یہ کمیٹی کا فرض تھا کہ ہر مذ ہب کی طرف سے مختلف وکیل جلسے میں پیش کرے۔سیکرٹری صاحب اس تبدیلی کے مخالف تھے لیکن جب مسلمان ممبروں نے اس بات پر زور دیا تو بہت بحث کے بعد یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مفتی صاحب کا وقت دیا جاوے - ۲۸ - دسمبر کی کارروائی اور مولوی محمد ۲۸- دسمبر ۱۸۹۷ء کو جلسہ دس بجے شروع ہو نا تھا لیکن جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے لوگ وقت حسین صاحب بٹالوی کی دوسری تقریر مقررہ پر بہت ہی کم آئے۔اس لئے قریباً ساڑھے دس بجے کارروائی کا آغاز ہوا پہلی تقریر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کی۔جس میں گزشتہ تقریر کے الجھاؤ کا رنگ اور زیادہ نمایاں ہو گیا اور ان کی زبان سے یہ سن کر تو مسلمانوں کی گرد مین مارے شرم کے جھک گئیں کہ انبیاء فوت ہو چکے۔امت محمدیہ کے بزرگ ختم ہو چکے بے شک وارث انبیاء ولی تھے وہ کرامت رکھتے اور برکات رکھتے تھے وہ نظر نہیں آتے زیر زمین ہو گئے آج اسلام ان کرامت والوں سے خالی ہے اور ہم کو گزشتہ اخبار کی طرف حوالہ کرنا پڑتا ہے ہم نہیں دکھا سکتے"۔- دسمبر کو حضرت اقدس کے بقیہ مضمون کی گونج ۲۹ - دسمبر ۱۸۹۶ء کو جلسے کا آخری اجلاس منعقد ہوا۔اس دن اگر چہ جلسہ کی کارروائی دستور سابق کے خلاف نو بجے صبح رکھی گئی تھی لیکن ابھی تو بھی نہ بجنے پائے تھے کہ سامعین کا ہجوم شروع ہو گیا۔ٹھیک مقررہ وقت پر مولانا عبد الکریم صاحب نے حضرت اقدس کے پر معارف مضمون کا بقیہ حصہ اپنی گذشتہ شان کے ساتھ پڑھنا شروع کیا اور پھر ۲۷- دسمبر کا سماں بندھ گیا۔ہر شخص ہمہ تن گوش بنا سن رہا تھا۔اس بقیہ مضمون کی ایک اعجازی خصوصیت یہ تھی کہ جلسہ میں غیر مسلم مقررین کی طرف سے بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی تعلیمات اور قرآنی صداقتوں پر جو اہم اعتراضات دارد کئے گئے تھے ان کا شافی جواب اس مضمون کے اندر موجود تھا۔بلکہ مسلمانوں کے بعض دوسرے نمائندوں نے اسلام کے مقدس چہرے پر جو گردو غبار ڈالنے کی کوشش کی تھی اس کی صفائی بھی اس حصہ سے ہو گئی۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک دن قبل اپنی تقریر میں اسلام جیسے زندہ مذہب کی طرف جو معجزات سے خالی ہونے کا اتمام لگایا تھا اس کا رد بھی اس حصہ میں آگیا جس نے مجمع کو بے خود کر دیا۔اکثر لوگ زار زار روتے تھے اور لذت سے دل وجد کر رہے تھے۔حضرت