تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 565
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۶۴ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح سننے میں ظاہر کی اور خصوصاً موڈریٹر صاحبان اور دیگر علما کد و روساء کی خاص فرمائش سے ایگزیکٹو کمیٹی نے منظور کر لیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بقیہ حصہ مضمون کے لئے وہ چوتھے دن اپنا آخری اجلاس کرے۔اب نماز مغرب کا وقت قریب آگیا ہے۔اور میں زیادہ وقت آپ کا لینا نہیں چاہتا۔1• مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی استدعا دوسری طرف مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کی مئے۔حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاه جهانپوری کا بیان ہے کہ ۲۷- دسمبر کی کارروائی کے خاتمے پر میں اپنے بزرگوں کے ساتھ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے در دولت پر جہاں میرا قیام تھا واپس آگیا اس رات حضرت خلیفہ صاحب موصوف کے بڑے بھائی کی طرف سے جن کا نام خلیفہ عماد الدین صاحب تھا چند معززین کی دعوت تھی۔ان میں جناب خان بہادر خدا بخش صاحب حج بھی شامل تھے جنہوں نے ایک وقت جلسہ کی صدارت بھی فرمائی تھی اور جو جلسہ کے ماڈریٹروں میں سے تھے۔موجود الوقت حضرات میں اس وقت عام طور پر جلسے کی تقریریں ہی زیر بحث تھیں۔تعریف سب کی زبان پر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے مضمون کی تھی۔اسی اثناء میں ایک شخص نے آکر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا یہ تحریری پیغام جناب حج صاحب موصوف کی خدمت میں پیش کیا کہ جلسے کا ایک دن بڑھا دیا گیا ہے۔اگر جناب میری تقریر کے لئے بھی وقت دیئے جانے کی طرف توجہ فرما ئیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی۔جناب حج صاحب نے بے ساختہ فرمایا کہ ”مولوی ابو سعید صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں کونسا تیر مارا تھا جو ان کی دوسری تقریر کے لئے وقت رکھا جائے"۔مولوی محمد حسین صاحب نے یہ صورت دیکھی تو انہوں نے مضمون پڑھنے کے لئے ایک اور طریق نکالا - ۲۸- دسمبر کے پروگرام میں پہلی تقریر مولوی مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور کی تھی۔اور اس کے بعد پورا وقت غیر مسلم نمائندوں کے لئے مخصوص تھا۔اس لئے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مفتی صاحب موصوف سے درخواست کی کہ وہ اپنا وقت انہیں دے دیں جسے انہوں نے منظور کر لیا۔اس پر مولوی صاحب شیخ خدا بخش صاحب حج کے پاس آئے اور ان کو بھی مفتی صاحب کا پیغام دے کر رضامند کر لیا۔چنانچہ وہ ان کو ہمراہ لے کر قریباً ساڑھے آٹھ بجے صبح پنڈال میں پہنچ گئے۔جلسے کی کارروائی کو دس بجے شروع ہو نا تھا۔ساڑھے دس بجنے میں ابھی کچھ منٹ باقی تھے کہ خان بہادر صاحب موصوف نے انتظامیہ کمیٹی کے چند ممبروں سے بیان کیا کہ جناب مفتی صاحب چند اتفاقات کے باعث آج نہیں آسکیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا وقت مولوی محمد حسین صاحب کو