تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 564
تاریخ احمدیت جلدا ۵۶۳ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح کے اس طرح جمع ہو جانے اور نہایت صبر و تحمل کے ساتھ جوش سے برابر پانچ چار گھنٹہ اس وقت ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان ذی جاہ لوگوں کو کہاں تک اس مقدس تحریک سے ہمدردی تھی۔مصنف تقریر اصالتا تو شریک جلسہ نہ تھے۔لیکن خود انہوں نے اپنے ایک شاگرد خاص جناب مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو مضمون کے پڑھنے کے لئے بھیجا ہوا تھا۔اس مضمون کے لئے اگرچہ اس کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی تھے لیکن حاضرین جلسہ کو عام طور پر اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون نہ ختم ہو تب تک کار روائی جلسہ کو ختم نہ کیا جائے۔ان کا ایسا فرمانا عین اہل جلسہ اور حاضرین جلسہ کے منشاء کے مطابق تھا۔کیونکہ جب وقت مقررہ کے گزرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب نے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لئے دیدیا۔تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔جلسہ کی کارروائی ساڑھے چار بجے ختم ہو جانی تھی لیکن عام خواہش کو دیکھ کر کار روائی جلسہ ساڑھے پانچ بجے کے بعد تک جاری رکھنی پڑی کیونکہ مضمون قریباً چار گھنٹہ میں ختم ہوا اور شروع سے اخیر تک یکساں دلچسپی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا"۔د اگر چہ اس مضمون کے ختم ہوتے ہوتے شام کا وقت قریب آگیا لیکن یہ ابھی پہلے سوال کا جواب تھا اس مضمون سے حاضرین جلسہ کو بلا استثناء احدے ایسی دلچسپی ہو گئی کہ عام طور سے ایگزیکٹو کمیٹی سے استدعا کی گئی کہ کمیٹی اس جلسہ کے چوتھے اجلاس کے لئے انتظام کرے جس میں باقی سوالات کا جواب سنایا جاوے کیونکہ حسب اعلان ایگزیکٹو کمیٹی جلسہ کے تین ہی اجلاس ہونے تھے۔اور تیسرے اجلاس کے سپیکر پہلے ہی سے مقرر ہو چکے تھے جلسہ کا دن بڑھانے کے لئے موڈریٹر صاحبان کی خاص رضامندی تھی۔علاوہ ازیں سناتن دھرم کی طرف سے اور آریہ سماج کی طرف سے بھی استدعا تھی کہ ان کی طرف سے اور زیادہ ریپریز لٹیشن ہو اس لئے ایگزیکٹو کمیٹی نے انجمن حمایت اسلام کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ صاحب سے جو وہاں موجود تھے چوتھے دن کے لئے استعمال مکان کی اجازت لے کر میر مجلس کو اطلاع دی کہ وہ چوتھے دن کا اعلان کر دیں۔مضمون ساڑھے پانچ بجے ختم ہوا۔جس پر ذیل کے الفاظ میں میر مجلس نے آج کے اجلاس کی کارروائی کو ختم کیا۔میرے دوستو! آپ نے پہلے سوال کا جواب جناب مرزا صاحب کی طرف سے سنا۔ہمیں خاص کر جناب مولوی عبد الکریم صاحب کا مشکور ہونا چاہیے۔جنہوں نے ایسی قابلیت کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا۔میں آپ کو مردہ دیتا ہوں کہ آپ کے اس فرط شوق اور دلچپسی کو دیکھ کر جو آپ نے مضمون کے