تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 557 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 557

تاریخ احمدیت جلد ۵۵۶ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح کا نفرنس کے لئے ۲۶-۲۷-۲۸ دسمبر ۱۸۹۷ء کی تاریخیں قرار پائیں اور جلسہ گاہ کے لئے انجمن حمایت اسلام لاہور کے ہائی سکول کا احاطہ ( متصل مسجد مولوی احمد علی شیرانوالہ دروازہ) حاصل کیا گیا۔جلسہ کی کارروائی کے لئے مندرجہ ذیل چھ موڈریٹر صاحبان نامزد کئے گئے۔(۱) رائے بہادر ہا ہو پر تول چند صاحب بج چیف کورٹ پنجاب (۲) خان بہادر شیخ خدا بخش صاحب حج سال کا کورٹ لاہور (۳) رائے بہادر پنڈت رادھا کشن صاحب کول پلیڈر چیف کورٹ سابق گورنر جموں (۴) حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب طبیب شاہی (۵) رائے بوانی داس صاحب ایم۔اے اکسٹرا سٹلمنٹ آغیر جہلم (۶) جناب سردار جواہر سنگھ صاحب سیکرٹری خالصہ کمیٹی لاہور - 2 اشتہار واجب الاظهار سوامی شو کن چند ر صاحب نے کمیٹی کی طرف سے جلسہ کا اشتہار دیتے ہوئے مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ صاحبان کو قسم دی کہ ان کے نامی علماء ضرور اس جلسے میں اپنے اپنے مذاہب کی خوبیاں بیان فرما ئیں چنانچہ انہوں نے لکھا۔”اس وقت یہ بندہ کل صاحبان مذہب کی خدمت میں جو اپنے اپنے مذہب کے اعلیٰ درجہ کے واعظ اور پنی نوع کی ہمدردی کے لئے سرگرم ہیں ادب و انکسار سے گزارش کرتا ہے کہ جو جلسہ اعظم مذاہب کا بمقام لاہور ٹاؤن ہال قرار پایا ہے۔جس کی تاریخیں ۲۶-۲۷-۲۸ دسمبر ۱۸۹۷ء مقرر ہو چکی ہیں۔اس جلسہ کے اغراض ہی ہیں کہ بچے مذہب کے کمالات اور خوبیاں ایک عام مجمع مہذبین میں ظاہر ہو کر اس کی محبت دلوں میں بیٹھ جائے اور اس کے دلائل اور براہین کو لوگ بخوبی سمجھ لیں اور اس طرح پر ہر ایک مذہب کے بزرگ واعظ کو موقع ملے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائیاں دوسروں کے دلوں میں بٹھا دے اور سننے والوں کو بھی یہ مبارک موقع حاصل ہو کہ وہ ان سب بزرگوں کے مجمع میں ہر ایک تقریر کا دوسرے کی تقریر کے ساتھ موازنہ کریں اور جہاں حق کی چمک پادیں اس کو قبول کر لیں۔اور پھر یہ سب تقریریں ایک مجموعہ میں چھپ کر پبلک کے فائدہ کے لئے اردو اور انگریزی میں شائع کر دی جائیں۔اس بات کو کون نہیں جانتا کہ آج کل مذاہب کے جھگڑوں سے دلوں میں بہت کچھ ابال اٹھا ہوا ہے اور ہر ایک طالب حق کے مذہب کی تلاش میں ہے اور ہر ایک دل اس بات کا خواہشمند ہے کہ جس مذہب میں در حقیقت سچائی ہے وہ مذہب معلوم ہو جائے۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہو اس سوال کے جواب میں جہاں تک فکر کام کر سکتا ہے یہی احسن طریق معلوم ہوتا ہے کہ تمام بزرگان مذہب جو وعظ اور نصیحت اپنا شیوہ رکھتے ہیں ایک مقام میں جمع ہوں اور اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں سوالات مشتہرہ کی پابندی سے بیان فرمائیں۔پس اس مجمع اکا برمذہب میں جو مذہب بچے پر میشر کی طرف